books

تعلیمی شعبہ میں نئی جہت پیدا کرنے اور نصاب طے کرنے کیلئے ضلع سطح کی کمیٹیاں تشکیل

مہنگے داموں کتابیں فروخت کرنے والے نجی اسکولوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی ،والدین کا تعاون اس میں لازمی

سرینگر / /ایس کے آئی سی سی میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ صحافیوں کی ایک تقریب میں نامہ نگاروں نے شعبہ تعلیم کے حوالے سے چند اہم نقطے ابھارتے ہوئے کہا کہ مہنگے داموں کتابوں کی فروخت،نصابی کتابوں کی بازاروں میں کمی ،نجی اسکولوں کیلئے الگ الگ نصاب ہے یا بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کاتیار کردہ نصاب ہی ہے ۔کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق تقریب میں مووجود وزیرتعلیم سکینہ مسعود ایتونے میڈیانمائندوں کے سوالوں کے جواب میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں تعلیمی سیشن میں تبدیلی کی وجہ سے نصابی کتب کی دستیابی میں تاخیر ہوئی ہے۔ساتھ ہی انہوںنے مہنگے داموں کتابیں فروخت کرنے والے پرائیویٹ اسکولوں کیخلاف کارروائی کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ طلباء اورطالبات کے والدین کو کتابوں کی اونچی قیمتوں والے اسکولوں کی جانکاری حکام کو دینی چاہئے ۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتونے ایک سوال کے جواب میں واضح کیاکہ باہر سے کسی کو چیئرپرسنJKBOSE نہیں بنایا جا رہاہے۔کے پی ایس نمائندہ سے بات چیت کے دوران وزیر تعلیم سکینہ مسعود ایتو نے بتایا کہ نصاب کے حوالے سے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو نصاب کو دیکھیں گے اورکمیٹیوں کی مشاورت کے بعد نجی اسکولوں کے نصاب کے حوالے سے بھی فیصلہ طے کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ (JKBOSE) کی نصابی کتابیں جنوری کے آخر تک دستیاب کر دی جائیں گی۔انہوںنے کہاکہ نصابی کتب کی دستیابی میں تاخیر تعلیمی سیشن مارچ سے نومبر تک تبدیل کردینے کے باعث ہی ہوا ۔ لیکن ہم نے اس مسئلے کا نوٹس لیا ہے اور نصابی کتب اس ماہ کے آخر تک دستیاب کر دی جائیں گی۔وزیر تعلیم نے کہاکہ مہنگے داموں کتابیں فروخت کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے میڈیا کے ذریعے والدین سے تلقین کی کہ وہ اسکولوں کے اعلیٰ نرخوں پر کتابیں فروخت کرنے کے واقعات کی وزیر موصوف کو اطلاع دیںاور ان اسکولوں کے نام اور مقامات کا بھی ذکر کریں تاکہ ہم مناسب کارروائی کی جاسکے ۔۔انہوںنے کہاکہ ایک سرچ کمیٹی بنائی گئی ہے، انہیں نیا چیئرپرسن بورڈ تلاش کرنے کا موقعہ دیں گے تاکہ تعلیمی شعبہ میںخاصی مہارت رکھنے والے ماہر کا انتخاب بطور چیئرپرسن کیا جائے گا۔