irshad kar

ترسیلی وتقسیم کاری نظام میں’مرمت یا تجدیدکاری کے بہانے بغیر اعلان پورے دن بجلی کٹوتی

عام لوگ،صنعت کار،کارخانہ دار ،دکاندار سبھی پریشان،بہتر شیڈول ترتیب دیاجائے :ارشاد رسول کار

سری نگر//نیشنل کانفرنس کے لیڈر اورکانسچیونسی انچارج سوپور ارشاد رسول کار نے قصبہ سوپور اوراسکے نواحی علاقوں میں ’بجلی کے ترسیلی وتقسیم کاری نظام میں مرمت یا تجدید کے بہانے بغیر اعلان پورے دن بجلی کٹوتی ‘کے اقدام پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ بجلی کے اس اقدا م سے عام صارفین کیساتھ ساتھ تاجر برادری ،بیمار اشخاص ،طلباء طالبات اور چھوٹے صنعتی یونٹوںوکارخانہ داروں کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق ارشاد رسول کار نے ایک بیان میں کہاکہ قصبہ سوپور کے کسی نہ کسی علاقے میں آئے دنوں محکمہ بجلی کے اہلکار بجلی کے ترسیلی وتقسیم کاری نظام میں مرمت یا تجدید کے دوران بغیر اعلان صبح سے شام تک بجلی سپلائی منقطع کرتے ہیں ،جس کی وجہ سے عام لوگ،گھروں میں پڑے علیل اشخاص،دکاندار ،تاجر برادری اور چھوٹی صنعتوں کے مالکان اور کارخانہ دار مختلف نوعیت کی پریشانیوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کسی بھی علاقے میں مرمت یاتجدیدکاری سے قبل محکمہ بجلی کی جانب سے متعلقہ علاقے کے لوگوںکو پیشگی مطلع کیا جاناچاہئے ،اور مرحلہ وار بنیاد پر بجلی سپلائی منقطع کی جانی چاہئے ،تاکہ عام صارفین سے لیکر تاجر برادری اور صنعت کار نیز کارخانہ دار بلاوجہ کی مشکلات اورنقصانات سے دوچارنہ ہوں۔نیشنل کانفرنس کے لیڈر ارشاد رسول کار نے کہاکہ بغیر علان گھنٹوں بجلی کٹوتی کئے جانے سے سوپور کی حدودمیں قائم چھوٹی صنعتوںاورکارخانوںمیں معمول کاکام ٹھپ ہوکررہ گیاہے جبکہ بجلی پرانحصار کرنے والے دکاندار اورتاجر بھی دن بھر ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ،گھروںمیں پڑے بیمارافراد جن کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے ،بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سخت جسمانی اورذہنی کوفت میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔انہوںنے متعلقہ حکام پرزوردیاکہ وہ مرمت اور تجدیدکاری کی آڑمیں بجلی صارفین کیساتھ زیادتی نہ کریں بلکہ اپنے کام کاکوئی ایسا شیڈول ترتیب دیں ،جس سے کہ جملہ صارفین بلاوجہ کی ذہنی کوفت اور کاروباری نقصانات سے دوچار نہ ہوں ۔ارشاد رسول کار نے خبردار کیاکہ بغیر اعلان اور بناء کسی وجہ سے بجلی سپلائی کاٹ دینا حقوق صارفین کی سریحاًخلاف ورزی ہے اور متعلقہ محکمے کواس طرح کی خلا ف ورزی سے اجتناب کرنا چاہئے ۔