تربوزے انجکشن کے ذریعے کمیکل سرخ بنانے کی افواہوں کے بیچ

تربوزے انجکشن کے ذریعے کمیکل سرخ بنانے کی افواہوں کے بیچ

ایک تربوزے کی گاڑی پر 250لاکھ روپے کرایہ اور سات لاکھ سے رقم میں کشمیر پہنچتی ہی

سرینگر///بے وقت تربوزے تیار ہونے اور انجکشن کے ذریعے کمیکل کی افواہیں گشت کرنے کے بیچ یہ بات سامنے آئی ہے کہ تربوزے کی ایک گاڑی کو باہر کی منڈیوں سے کشمیر تک 2.5لاکھ روپے کرایہ اداکرنا پڑتا ہے جبکہ بیرون منڈیوسے ایک تربوزے کی گاڑی کشمیر 7لاکھ 50ہزا ر روپے سے زائد رقم تک پہنچ جاتی ہے ۔ تاجروںنے بتایا ہے ، محکمہ فوڈ اور دیگر محکمہ جات نے تربوزوںکی جانچ کی اور ان میں کوئی نقص نہیں پایا ہے اور وادی کشمیر میںمیوہ کے کاروبار سے قریب 30لاکھ افراد بلواسطہ یا بلا واسطہ جڑے ہوئے ہیں اور غلط افواہوںکیوجہ سے ان کی تجارت اورروزگار متاثر ہورہاہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے وادی کشمیر تربوزوں سے متعلق یہ افواہیں گشت کررہی ہے کہ تربوزوں کو کمیکل کے ذریعے سرخ بنایا جاتا ہے کیوںکہ اس وقت تربوزوں کا موسم نہیں ہے اور ماہ رمضان میں وادی میں اس کی زیادہ کھپت کے پیش نظر تربوزوں میں انجکشن کے ذریعے کمیکل ڈال دیا جاتا ہے جس سے یہ قبل از وقت ہی تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں بھی خبریں شائع اور نشر ہوئی تاہم تاجروںنے ان افواہوںکو غلط قراردیتے ہوئے کہاکہ اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ باہر کی منڈیوںسے تربوزوںکی ایک گاڑی کو وادی پہنچانے کیلئے صرف کرایہ ہی 2لاکھ پچاس ہزار سے زائد رقم صرف ہوتی ہے جبکہ باہر کی منڈیوں سے ایک تربوزے کی گاڑی 7.5لاکھ تک کشمیر ایک گاڑی پہنچ جاتی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ پہلے آندھرا پردیش میں تربوزے پک کے تیار ہوتے ہیں اور اس کے پندرہ دن بعد مہاراشٹریہ میں تیار ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہریانہ ، یوپی اور دیگر جگہوں پر جہاں جہاں تربوزوں کی کاشت ہوتی ہے ہر مہینے تربوزے تیار ہوکر منڈیوں تک پہنچاجائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ باہر کی ریاستوں میں درجہ حرارت کافی زیادہ رہتا ہے اور موسم سرماء میں بھی تیس ڈگری تک درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اسلئے ان ریاستوں میں ہر موسم میں تربوزوں کی کاشت ہوتی ہے ۔ اس بیچ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے جنوبی کشمیر کی سب سے بڑی فروٹ منڈی اشاجی پورہ فروٹ منڈی کے پریذیڈنٹ رئیس احمد خان نے بتایا کہ کل اور آج ڈاکٹروں اور محکمہ فوڈ کی ٹیموں نے مختلف گاڑیوں سے لائے جارہے تربوزوں کی جانچ کی اور ان میں کوئی نقص نہیں پایا ۔ انہوںنے بتایا کہ اس کاروبار سے لاکھوں لوگ جڑے ہوئے ہیں اور ماہ رمضان کے ایام میں وادی میں تربوزوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے اسلئے میوہ تاجر زیادہ سے زیادہ تربوزے لاتے ہیں اور روزانہ 15کے قریب ٹرالر بکتے تھے لیکن جب سے یہ افواہ چلی ایک بھی ٹرالر فروخت نہیں ہورہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ ماہرین کی ٹیم نے باضابطہ طور پر اس معاملے میں جانچ کی اور انہیں بہتر پایا اور ان تربوزوں سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ ادھر وی او آئی نمائندے امان ملک نے متعلقہ ماہرین خاص کر ایگریکلچر اور محکمہ فوڈ کے ذمہ داروں سے بھی اس سلسلے میںبات کی جنہوںنے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی جانچ میں کسی تربوزے میں کوئی نقص نہیں ملا اور ناہی کسی میں کمیکل ہونے کے شواہد ملے ۔انہوںنے بتایاکہ اگر کسی تربوزے میں انجکشن کے ذریعے چھید کیا جائے گا تو وہ ایک دن سے زیادہ ٹھیک نہیں رہ سکتا اور اندر سے ہی خراب ہوجائے گا۔