گھروں میں بیٹھنے کے بجائے کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کرنا بہتر:سی سی آئی کے
سرینگر/بے روزگار نوجوان ڈپریشن کے شکار ہوکر ایسے اقدامات اُٹھاتے ہیں جن سے ان کے والدین پریشانیو ں میں مبتلا ہورہے ہیں اس لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ کوئی بھی چھوٹا موٹا کام شروع کرکے اپنے آپ کوکام میں مصروف رکھیں اور سرکاری سکیموں سے استفادہ حاصل کرکے سماج اور اپنے لئے بہتر کریں ۔ ان باتوں کااظہار چیرمین انٹرپرونیورس کلب کمیٹی، ایسوسی ایٹس چیمبر آمد کامرس انڈسٹری کشمیر فیضان نحوی نے ایک انٹرویو کے دوران کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے نوجوانوں جو نیا کاروبارکرنا چاہتے ہیں سی سی آئی کشمیر ان نوجوانوں کو اپنا بھر پور تعاون پیش کرتاہے ۔ پہلے نوجوانوں کو ڈر رہتا ہے کہ اگر میں کوئی کاروبار شروع کروں گا وہ کامیاب ہوگایا نہیں اسلئے ایسے نوجوان جو کوئی کاروبارشروع کرنا چاہتے ہیں نیک نیتی اور ایمانداری کے ساتھ شروعات کریں ہاں شروع شروع میں کچھ اڑچنیں آتی ہیں تاہم ہمت مردان مدد خدا۔ اس لئے خواہشمند نوجوانوں کو پہلے اس کام کے بارے میں پوری طرح سے جانکاری حاصل کرنی چاہئے اورتجارت کے بارے میں اچھی طرح سمجھنا چاہئے کیوںکہ کاروبار میں اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ فیضان نحوی نے بتایا کہ سرکار کی جانب سے کئی سکیمیں چلائی جاتی ہیں جس سے نوجوان استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ہمارے پاس آنے والے نوجوان انہیں صحیح راستہ دکھاتے ہیں اور سی سی آئی کشمیر ایسے نوجوانوں کو بھر پور تعاون کرے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی بزنس چھوٹا ہو یا بڑا ہو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ چلے گا کہ نہیں اسلئے کام شروع کرنے میں ڈر نہیں رکھنا چاہئے اور کسی سے مقابلہ آرائی یعنی کمپٹشن نہیں رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ نوکرے کے بجائے کاروبار میں ایک تو وہ خود خود مختاد کام کرتا ہے دوسر ا وہ دوسرے نوجوانوں کےلئے بھی روزگار کا ذریعہ بنتا ہے ۔ فیضان نے بتایا کہ آج کل آن لائن بزنس کی ٹرنڈ شروع ہوچکی ہے جس سے چھوٹے تاجروں کا کافی فائدہ ہورہا ہے ۔ اسلئے گھروں میں بیٹھے رہنے سے بہتر یہ ہے کہ نوجوان اس ٹرنڈ کو اپنائیں۔ انہوںنے بتایا کہ ڈپریشن کی وجہ سے نوجوان غلط کاموں میں ملوث ہوتے ہیں اسلئے خالی بیٹھنے سے بہتر ہے کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا کام شروع کرے جس میں وہ مصروف رہیں۔ انہوں نے مزید بتایاکہ جو نوجوان زیر تعلیم ہے انہیں چاہئے کہ وہ پہلے اپنی تعلیم پر دھیان دیں کیوں کہ تعلیم ایک ایسا خزانہ ہے جو ان سے کوئی چھین نہیں سکتا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ای ڈی آئی کی جانب سے بھی مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے.










