بہار میں طوفان اور آسمانی بجلی کی تباہ کاری، 24گھنٹوں میں 20سے زائد افراد جاں بحق، متعدد زخمی

پٹنہ/سیاست نیوز//بہار میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران خراب موسم نے شدید تباہی مچائی ہے، جہاں طوفانی ہواؤں، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 20 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ اچانک بدلے اس موسم نے ریاست کے مختلف اضلاع میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور عوام میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں مشرقی چمپارن، گیا اور اورنگ آباد شامل ہیں، جہاں اموات کی سب سے زیادہ تعداد درج کی گئی۔ پٹنہ ضلع کے سیلابی علاقے میں درخت گرنے اور دیواریں منہدم ہونے کے باعث دو افراد کی موت ہوئی، جبکہ مشرقی چمپارن میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ گیا میں 3 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، اسی طرح اورنگ آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے 3 افراد ہلاک ہو گئے۔
دیگر متاثرہ علاقوں میں ویشالی سے ایک، سیتامڑھی سے دو اور بھوجپور سے ایک شخص کی موت کی خبر موصول ہوئی ہے۔ سیتامڑھی میں پیش آئے ایک دردناک واقعے میں بجلی کا کھمبا گرنے سے دو خواتین، رقیبہ خاتون اور نکحت پروین، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ غلام حسین نامی ایک شخص شدید زخمی ہوا، جس کا علاج جاری ہے۔
روہتاس ضلع میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 25 سالہ بلونت پاسوان کام کے دوران آسمانی بجلی کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس واقعے میں چار دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ مسلسل خراب موسم اور بجلی گرنے کے واقعات نے دیہی علاقوں میں خاص طور پر زیادہ نقصان پہنچایا ہے، جہاں حفاظتی انتظامات محدود ہیں۔
اس دوران کٹیہار ریلوے ڈویژن کے تحت اعظم نگر اسٹیشن پر ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا، جب ایک بھاری درخت کی شاخ ہائی ٹینشن اوورہیڈ تار پر گر گئی، جس میں 25 ہزار وولٹ بجلی دوڑ رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور پلیٹ فارم پر دھواں پھیل گیا، جس سے مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔ کٹیہار-رادھیکاپور پیسنجر ٹرین تقریباً ایک گھنٹے تک روکی گئی، بعد ازاں ریلوے حکام نے حالات پر قابو پا کر ٹرین سروس بحال کر دی۔
ریاست بھر میں طوفان کے باعث درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے گرنے سے سڑکیں بند ہو گئیں، جس کے نتیجے میں آمد و رفت شدید متاثر ہوئی۔ کئی علاقوں میں گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے بعد عوام میں غصہ بھی دیکھنے کو ملا ہے، خاص طور پر سیتامڑھی میں مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ نے مہلوکین کے اہل خانہ کے لیے چار-چار لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں راحت و بچاؤ کے کام تیز کرنے کی ہدایت دی ہے اور زخمیوں کے علاج کو یقینی بنانے کی بات کہی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی دن میں الرٹ جاری کرتے ہوئے طوفان، بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے امکانات ظاہر کیے تھے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کھلے میدانوں میں جانے سے گریز کریں اور خراب موسم کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔