Want to live in peace, will continue to advocate dialogue Dr. Farooq Abdullah

بھاجپا نے جموں وکشمیر کے دو ٹکڑے کئے کیونکہ ہم ترقی کی طرف گامزن تھے

ہمارے بچوں کو یونیورسٹی تک مفت تعلیم ملتی تھی لیکن اب ایسا نہیں رہا / ڈاکٹر فاروق

سرینگر // بھاجپا نے جموں و کشمیر کی تاریخی ریاست کے دو ٹکڑے اس لئے کئے کیونکہ ہماری ریاست ترقی کی طرف گامزن تھی، 5اگست2019کے روز جموں وکشمیر نامنہاد ماڈل ریاست گجرات سے بیشتر شعبوں میں آگے تھی اور ہمارے دشمنوں کو یہی راس نہیں آیا اور یہاں کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا غیر جمہوری اور غیر آئینی کام کیا گیا۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج پارٹی اُمیدوار برائے اننت ناگ راجوری نشست پر پارٹی اُمیدوار میاں الطاف احمد کے حق میں خطہ پیرپنچال میں سرنکورٹ، پونچھ میں چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی صد رجموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، پارٹی سینئر لیڈران جاوید رانا، خالد نجیب سہروردی، اعجاز جان، ڈاکٹر ممتاز بخاری، مظفر خان، چودھری محمد اکرم اور دیگر لیڈران بھی موجو دتھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہاں دفعہ370کی بدولت بہت سارے حقوق حاصل تھے، ہمارے بچوں کو یونیورسٹی تک مفت تعلیم ملتی تھی لیکن اب ایسا نہیں، ہمارے تعلیمی اداروں میں مقامی بچے ہی داخلہ پاسکتے تھے، ہمارے بچوں کو اس سے بھی محروم کیا گیا۔ جموں میں جو آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم بنایا گیا، اُن میں دیکھئے کتنے بچے یہاں کے زیر تعلیم ہیں اورکتنے باہر کے ہیں اور یہ بھی دیکھئے کہ پڑھانے والے کہاں کے ہیں۔ کیا ہمارے بچوں نے تعلیم مکمل کردی تھی کہ یہاں اب باہر کے بچوں کو تعلیم دی جارہی ہے، کیا یہاں کوئی قابل نہیں تھا جو ان تعلیمی اداروں میں استاد کے فرائض انجام دے سکتا تھا، یہاں تو اب مزدور بھی باہر سے لائے جاتے ہیں، ٹھیکے بھی باہر والوں کو دیئے جاتے ہیں، دریائوں سے ریت بھی اب باہر کے لوگ نکالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں اُن کو بتائے جو یہاں بھاجپا کے ساتھ چلتے ہیں اور اُن کا پرچار کرتے ہیں،ا ُن سے کہئے کہ آج بھاجپا والے ہمیں چُری مار رہے ہیں، کل آپ پر بھی ماریںگے اُس کیلئے تیار رہئے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہ پہلا امتحان ہے اور امرناتھ یاترا ختم ہونے کے بعد دوسرا امتحان اسمبلی انتخابات کی صورت میں ہے، اُس وقت بھی ہمیں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، یہی اُن لوگوں کو ہمارا جواب ہوگا تو ہمیں مذہب، زبان اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں نفرتوں کو ختم کرنا ہے، اور محبتیں قائم کرنی ہیں، مقابلہ سخت ہے، دشمن کو کبھی کمزور سمجھنے کی غلطی مت کیجئے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ اگلے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو پہلی چیز جو ہم کریں گے وہ اُن بچوں کی رہائی کا کام ہوگا جو ہزاروں بچے جیلوں می مقید ہے، اور اس کیلئے ریاستی درجے کی واپسی کیلئے بھی جدوجہد کی جائے گی۔ ہماری ریاست بنا کوئی دیر کئے بحال ہونی چاہئے۔راجوری پونچھ کیلئے علیحدہ پارلیمانی نشست کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2026میں نئی حدبندی طے ہے اور مجھے اُمید ہے کہ راجوری پونچھ کیلئے الگ سے نشست بنائی جائے گی اور پیرپنچال کو جنوبی کشمیر کیساتھ جوڑنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ پھر سے نہیں لیا جائے گا۔