وقف کے دکانداروں کو کرایہ ادا کرنے تک کھولنے کی اجازت نہیں ملے گی:ڈاکٹر درخشاں اندابی
سری نگر//وقف بورڑ نے سرینگر کے بڈشاہ چوک ،لالچوک میںمتعدد دکانوں کو گزشتہ رات ہی سیل کیا ہے جس پر مقامی دکانداروں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔اس دوران یہاں جمعرات کو مائسمہ،لالچوک ،بڈشاہ چوک میں بطور احتجاج تمام دکانداروں نے اپنی دکانوں کو کو بند رکھا اور پر امن احتجاج کیا ہے ۔ادھر وقف بورڑ کی چیر پرسن ڈاکٹر درخشاں اندابی نے کہا کہ وقف کے دکانداروں کو کرایہ ادا کرنے تک کھولنے کی اجازت نہیں ملے گی:۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق مزکورہ دکانداروں نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ وقف بورڑ نے گزشتہ شام دیر گئے یہاں بڈشاہ چوک لالچوک میں متعدد دکانوں کو سیل کیا ہے جس پر تمام دکانداروں نے بڈشاہ چوک،لاکچوک اور مائمسہ علاقوں میں بطور احتجاج جمعرات کے روز بطور احتجاج بند رکھا ہے ۔انہوں نے بتایا نماز عشاء کے بعد بورڑ کے ملازمین یہاں آئے اوردکانوں کو سیل کیا ہے ۔انہوں نے بتایا وقف اور تاجروں کے ساتھ کرایہ پر ایک مسئلہ چل رہا ہے ۔۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سال2015ء میں بورڑ نے ایک نوٹس نکالی ہے جس میں انہوں نے کرایہ بڑھانے کا مطالبہ کیا جس کے بعد باضابط طور ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران اس وقت کے وائس چیر مین نظام الدین بٹ نے دکانداروں کے ساتھ ایک ایگری منٹ کیا ہے جس میں اس وقت 2018سے120فیصد کرایہ میں اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہر سال کرایہ میں پانچ پانچ فیصد کرایہ میں بڑھائی کی جا رہی ہے جو ہر دکانداروں پابندی کے ساتھ ادا کر رہا ہے ۔تاجروں نے بتایا گزشتہ سال انہوں نے گزشتہ سال نوٹس نکالی ہے کرایہ میں600سے1000فیصد کر دیا ہے ۔انہوں نے بتایا جو دکاندار2500روپے کرایہ ادا کرتا تھا اس کو 13500روہے کر دیا ہے اور بتایا کہ اس حوالے سے تاجروں نے عدالت کا رخ کیا ہے جس میں انہوں نے ایک حکمنامے میںجو کہ آخری نہیں ہے میں کیا 50فیصد کرایہ آن اکاونٹ آپ ادا کریں فلحال جو بعدمیں ریٹ پیٹشن کا فیصلہ ہوگا اس وقت لاگو ہوجائے گا ۔اور ابھی کیس عدالت میں چل رہا ہے جبکہ کیس کی شنوئی کل بھی اور وقف نے مزید15دن کا وقت مانگا ہے انہوں نے بتایا عدالت میں مسئلہ زیر بحث ہے اس لئے وقف فلحال دکانوں کو سیل نہیں کر سکتا ہے ۔ جمعرات کے روز اس کارروائی کے خلاف متعدد مقامات پر دکانیں بند رہے اور وہ دکانوں کو سیل ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ادھر وقف بورڑ کی چیر پرسن ڈاکٹر درخشاں اندابی نے کہا کہ وقف کے دکانداروں کو کرایہ ادا کرنے تک کھولنے کی اجازت نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا ان دکانداروں کے پاس لاکھوں روپے کرایہ کی صورت واجب الداہے جس کو انہیں ادا کرنا ہوگا جس کے بعد دکانوں کی سیل ہٹائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا وقف دو سال سے کہ رہا ہے کہ وقف کے دکانداروں کو کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا ابھی6دکانوں کو سیل کیا گیا ہے جو ٹرائلر ہے۔ڈاکٹر درخشان اندابی نے کہا ہے کہ شری ماتا وشنو دیویشرائن بورڑ نے ایک ہسپتال قائم کی ہے جس کے پاس اتنا بڑا اثاثہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ لالچوک جیسے علاقے میں وقف کے دکان ہیں جن کاکرایہ کم ہے۔










