بٹہ کوٹ پہلگام میں سرکاری سکول کیلئے سرکاری عمارت نہیں

151بچے پڑاھنے کے لئے صرف 5 ٹیچر اور 3 کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں

سرینگر///گورنمنٹ گرلز مڈل سکول بٹہ کوٹ پہلگام اننت ناگ میں قائم سکول کی سرکاری عمارت نہ ہونے کے نتیجے میں بچوں کو مقامی پرانے کرائیں کے گھر میں پڑھایا جاتا ہے- وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں قائم سرکاری سکولوں کی حالت ابتر ہونے کے نتیجے میں ان سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا مستقبل مخدوش بن رہا ہے۔بٹہ کوٹ پہلگام اننت ناگ میں گورنمنٹ گرلز مڈل سکول میں زیر تعلیم 151بچے پڑاھنے کے لئے صرف 5 ٹیچر اور 3 کمروں میں پڑھائے جارہے ہیں جہاں پر نہ سوشل دوری کا کوئی پاس و لحاظ رہتا ہے اورناہی طلبہ ٹھیک طرح سے پڑھائی کرپارہے ہیں۔ اس صورتحال پر مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں قائم سکولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ وی او آئی کے نمائندے امان ملک کے مطابق جنوبی کشمیر کے دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری سکول سرکار اور متعلقہ محکمہ کی نظروں سے ا جھل ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تو ہے لیکن انہیں سہولیات مئیسر نہیں ہے جس کی وجہ سے دور درازعلاقوں کے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے عشمقام زون میں بٹہ کوٹ گاؤں میں 1966 میں پرائمری سکول قائم کیاگیا جس کو 2008 میں اپ گریڈ کرکے پھر مڈل سکول بنایا گیا لیکن پرائمری سکول کیلئے جو ا س وقت پرانی کرائیں کی عمارت تھی اسی عمارت کے تین کمروں میں مڈل سکول کو بھی چلایا جارہا ہے۔ بٹہ کوٹ چونکہ ایک وسیع آبادی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے سکول میں بچوں کا رول بھی کافی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ گرلز مڈل سکول بٹہ کوٹ پہلگام اننت ناگ کی سکولی سرکاری عمارت نہیں ہے- جس کے بعد سے سکول میں زیر تعلیم بچوں کو مقامی پرانے کرائیں کے گھر میں پڑھایا جارہا ہے۔ا گرچہ سکول میں تعینات اساتذہ نے سکول کیلئے کرایہ کیلئے جگہ کی تلاش کی تھی تاہم وہ اس میں ناکام ہوئے۔ اس سلسلے میں اگرچہ متعلقہ حکام سے کئی بار بات کی گئی او ر سکولی عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس سلسلے میں محکمہ ایجوکیشن نے ابھی تک کوئی بھی اقدام نہیں ا ٹھایا۔