بلاک ویلگام میں رشوت ستانی عروج پر،حکام خاموش

5 ہزار کی مبینہ رشوت ادا نہ کرنے پر بل پھاڑدی گئی،ایک شخص کا الزام

ہندوارہ//جہاں انٹی کرپشن بیورو وادی میں جنگی بنیادوں پر رشوت ستانی کا قلع قع کررہی وہیں سرکاری دفاتروں میں رشوت ستانی طول پکڑتی نظر آرہی ہے۔ گزشتہ دنوں میں انٹی کرپشن بیورو۔انٹی کرپشن بیورو نے کپوارہ ضلع میں کئی جگہوں پر رشوت ستانی معاملے میں ملوث کئی افسران ملازمین کو پکڑ لیا ہے لیکن وہیں دوسری طرف دفتروں میں رشوت کا بند ہونا نام ہی نہیں لے رہا ہے د۔ بشیر احمد وانی نامی شخص نے جے کے این ایس نامہ نگارطارق راتھرکو بتایا کہ بلاک ویلگام میں مبینہ طور رشوت ستانی کا کام عروج پر ہے اور یہاں اسی شخص کا کام کیا جارہا ہے جو رشوت دے رہا۔ ککروسہ ویلگام کے رہنے والے بشیر احمد وانی نامی شخص نے بتایا کہ میں ایک غریب شخص ہوں اور میں اپنی تعلیم مکمل کرکے اب گھر میں بے روزگار بیٹھا ہوں۔کچھ برسوں سے میں اب بلاک یا دیگر کسی محکمہ کا کام کرتا ہوں اور اسی طرح کچھ ماہ قبل میں نے بلاک کے کام میں ایک ((ویل)) کنواں کھودا جس کیلئے 87ہزار روپے کی رقم وگزار ہوئی تھی لیکن جب مذکورہ بشیر احمد وانی نے اس کنویں کا کام شروع کیا تو اس کو 4 7ہزار کی بل چھوڑ دی گئی اور جب بشیر احمد نے کنواںکھودنے کا کام مکمل کیا تو اس کی آخری بل تیار ہوئی۔ انہوں نے کہا میں نے اس بل کو ای سی ڈی افس سے بھی تیار کرکے لایا اور جب آخر پر بی ڈی او افس ویلگام لائی مکمل کرکے تو یہاں بی ڈی او نے اس بل کو جی آر ایس طاہر کے ٹیبل پر رکھنے کو کہا جب متذکرہ طاہر نے بل کو دیکھا تو اپنے پاس رکھ کر بشیر احمد کو تین دن کا وقت دیا اور جب تین دن گزر گئے تو بشیر احمد وانی اپنی بل لانے کیلئے بی ڈی افس ویلگام پہنچتا ہے تو یہاں جی آر ایس کو اپنی بل کے بارے میں بتاتا ہے تومذکورہ اس کو بل پر دستخط کرنے کیلئے پانچ ہزار کا رشوت مانگ رہا ہے۔ بشیر احمد کا کہنا ہے کہ میں اس کو پانچ دینے سے انکار کررہا ہوں ،اور اس دوران میری اور مذکورہ ملازم کے درمیانی کچھ توتو میں میں شروع ہوئی توسرکاری اہلکار نے بل تک پھاڑ دی ۔شکایت کنندہ کے مطابق سرکاری ملازم نے بل کو پھاڈ کر میری طرف پھینک دیا تو مسلہ بی ڈی اوکی نوٹس میں لایاجاتاہے ۔ بی ڈی او اس مسلے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے بشیر احمد کو نئی بل دینا کا یقین دلاتا ہے اور جب اس بی ڈی او کی یقین دہانی کے بعد بشیر احمد وانی واپس نکلتا ہے تو دوسرے دن بشیر احمد وانی بی ڈی ائو کے پاس جاتا ہے تو بی ڈی او اس تاریخ تک اس کو آجکل کررہا ہے جبکہ بشیر احمد کا کہنا ہے۔سرکاری ملازم نے مجھے نے بتایا ہے کہ بی ڈی ائو بل کہاں سے لائے گا یہ مجھے ہی تیار کرنی ہے،اور میں اس کی بل کو کھبی نہیں چھوڈو ں گا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کپوارہ اور اے سی ڈی کپوارہ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی اور ان کی بل واگزار کرنے کا مطالبہ کیا۔