بجلی کرنٹ سے زخمی ہوالولاب کا نوجوان سکمز میں لقمہ اجل

علاقہ میں کہرام ،غریب کنبہ اورعلیل والد کا سہارا لٹ گیا

سرینگر//گذشتہ دنوںدیور لولاب کے آہنگر محلہ میں ایک سانحہ رونما ہواتھا جس میں فیضان احمد آہنگر ولد ارشاد احمد آہنگر بجلی کا کرنٹ لگنے سے زخمی ہوا تھا اورسکمز صورہ میں زخموں کی تاب نہ لاکر آج بالآخرچل بسا۔کشمیر پریس سروس نمائندہ شفاعت بٹ کے تفصیلات کے مطابق 19 سال کی عمرکا نوجوان فیضان احمد آہنگرکو چند روز قبل بجلی کا شدید جھٹکا لگا تھا اور اس کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS)صورہ سرینگرمیں منتقل رکھنے کے بعد کئی دنوں زیر علاج رہا۔ طبی کوششوں کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بدھ کے روز اسپتال میں ہی چل بسا۔فیضان کی اس حادثاتی پر موت نے پوری کمیونٹی میں صدمے کی لہر دوڑادی ہے، دوستوں، اہل خانہ اور پڑوسیوں نے نوجوان کی جان کے تلف ہونے پر رنج وغم اورگہرے صدمے کا اظہار کیا ۔اس سلسلے میں مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اشخاص نے سوگوار خاندان بالخصوص ارشاد احمد آہنگر اور پورے آہنگر خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نوجوان شریف النفس اور ملنسار تھا ۔انہوں نے کہا کہ مرحوم کے والد ارشاد احمد آہنگر کافی عرصہ سے مہلک مرض میں مبتلا ہے اوراس کا یہ سہارا ان سے چھن گیا اورارشاد احمد ایک بڑے صدمے میں مبتلا ہوا اورعوام وانتظامیہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اب مرحوم کے اہل خانہ کی طرف توجہ مرکوز کرے کیونکہ یہ ناقابل تلافی نقصان ہے جس کی بھر پائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے البتہ ان کی ہمت افزائی کرنے کی کوشش کرنا ناگزیر بن گیا ہے ۔انہوں نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ فیضان احمد کو جنت الفردوس عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔واضح رہے کہ ان کے نماز جنازہ میں لوگوں کی خاصٰ تعداد نے شرکت کی اور پُرنم واشکبار آنکھوں کے ساتھ نوجوان کو اپنے آبائی مقبرہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔ادھر پی ٰڈ ی پی کے نامزد امیدوار برائے لولاب وقارالحق خان اور سابق وزیرایڈوکیٹ عبدالحق خان نے فیضان احمد آہنگر کی موت پر گہرے رنج وغم کااظہار کیااور پسماندگان کے ساتھ اس غم کی گھڑی میں برابر شریک ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدمہ عظیم ہے اور ناقابل تلافی نقصان کو اگر چہ کرنا مشکل ہے تاہم اس کی طرف توجہ دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔