weather

بادشاہ چلہ کلان کے سخت تیور شدید ،سردی کی لہر نے وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا

6جنوری تک بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی ، فضائی اور زمینی رابطہ پھر سے بند ہونے کا امکان

سرینگر// بادشاہ چلہ کلان کے سخت تیور کے بیچ سردی کی لہر نے وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ سرینگر میں مسلسل درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر کر منفی میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران دن بھر آسمان ابر آلود رہنے کے نتیجے میں ٹھٹھرتی سردیوں سے لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کا ترجیح دی ۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں آئندہ 6دنوں کے دوران موسم خراب رہ سکتا ہے اور بالائی علاقوں میں کہیں کہیں برف باری کا امکان ہے جبکہ 4سے 6جنوری تک بالائی علاقوں میں بھاری جبکہ میدانی علاقوں میں درمیانی درجے کی برفباری متوقع ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شدید سردی کی لہر نے وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس دوران صبح و شام یخ بستہ ہواؤں کی وجہ سے عام زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔اگرچہ رات بھر آسمان کھلا رہتا ہے تاہم اس دوران کھلے آسمان کی وجہ سے سردی میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے جبکہ رات کے وقت ہڑیوں کو گلا دینے والی اس سردی کی وجہ سے بیشتر لوگ گھروں سے باہر نہیں آتے۔دن بھر اگر چہ کبھی کبھی فضاء میں سورج بھی جلوا ہ افروز ہوتا تاہم اس دوران بھی سرد ہواؤں کی لہر سورج کی تمازت کو کھا جاتی ہے۔شہر سرینگر سمیت وادی کے جنوب و شمال میں سردیو ں کی وجہ سے صبح دیر سے دن شروع ہوتا ہے اور شام کو جلد ہی رات ہونے کی وجہ سے اوقات کار میں بھی کمی آئی ہے۔ موسم سرماکی آمد کے ساتھ ہی وادی میں عام زندگی اگر چہ متاثر ہوتی ہے تاہم سخت ترین سردیوں اور یخ بستہ ہواؤں کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہرہ آفاق گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ جبکہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہقاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ بڈگام اور گاندربل اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 4.2 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی 3.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔اسی دوران انہوں نے کہا کہ پلوامہ، اننت ناگ، کولگام اور شوپیاں میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی7.0 ڈگری سینٹی گریڈ، 8.1 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی7.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی10.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔ادھر منگل وار کی صبح پینے کے پانی کے نل منجمند پائے گئے۔ کچھ ایک آبی ذخائر کو بھی جزوی طور پر منجمند پایا گیا۔ ادھر جموں میں بھی شدید سردی کی لہر جاری ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ اسی دوران محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں کشمیر میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم مجموعی طور پر خشک رہے گا، جس کے نتیجے میں کم سے کم درجہ حرارت میں مزید گراؤٹ درج کی جاسکتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ یکم جنوری سے ایک کے بعد دوسری مغربی ہوائیں جموں کشمیر میں اثر اندوز ہو رہی ہے جس دوران بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یکم جنوری اور دو جنوری کو موسم عام طور پر دوپہر تک ابر آلود رہے گا اور کئی مقامات پر شام سے تک ہلکی سے درمیانی درجے کی برف اور بارش ہونے کا امکان ہے اور کچھ ایک اونچائی پر بھاری برفباری کے امکانات ہیں۔انہوں نے کہا کہ شمال، شمال مغربی اور جنوبی کشمیر کے میدانی علاقوں میں درمیانی اور بالائی علاقوں میں ایک فٹ تک برف پڑ سکتی ہے جبکہ وسطی کشمیر کے میدانی علاقوں میں ایک سے دو انچ برف کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں صوبے میں اس مدت کے دوران پیرپنجال رینج اور وادی چناب کے اونچے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 3سے 6جنوری تک موسم جزوی طور پر ابر آلود رہے گا اور بالائی علاقوں پر ہلکی برفباری کا امکان ہے، انہوں نے مزید کہا خراب موسم کے پیش نظرمسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کے مطابق منصوبہ بندی کریں اور ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری پر عمل کریں۔