اے ٹی ایم گارڈ کشمیری پنڈت کی ہلاکت کا معاملہ

ایس آئی اے کی جانب سے 3مہلوک ملیٹنٹوں سمیت 12افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر

سرینگر//ایس آئی اے نے کشمیری پنڈت کی ہلاکت میں مبینہ ملوث تین مہلوک ملیٹنٹوں سمیت 12افراد کے خلاف خصوصی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے ۔مہلوک کشمیری پنڈت بطوراے ٹی ایم گارڈ کے اپنی خدمات انجام دے رہا تھا جب نامعلوم بندوق برداروں نے اس کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے )نے گزشتہ سال فروری میں کشمیری پنڈت کے قتل کیس کے سلسلے میں ہفتہ کو پلوامہ کی خصوصی نامزد عدالت میں تین ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سمیت 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔اے ٹی ایم گارڈ کے طور پر کام کرنے والے کشمیری پنڈت سنجے شرما کو 26 فروری کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے اچھن علاقے میں عسکریت پسندوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔شرما کے قتل کے معاملے کی ابتدائی تحقیقات پلوامہ پولیس نے کی اور بعد میں اسے خصوصی تفتیش کے لیے ایس آئی اے کشمیر کو منتقل کر دیا گیا۔ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایس آئی اے نے کیس کی تفتیش مکمل کی اور چارج شیٹ داخل کی۔ایس آئی اے نے کہا کہ کیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین سرحد پار سے دہشت گرد ہینڈلرز کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔پلوامہ میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ایکٹ کے تحت 12 افراد کے خلاف قتل کیس کی چارج شیٹ خصوصی نامزد عدالت میں داخل کی گئی۔ چارج شیٹ میں ہفت شرمال شوپیاں کے جازم فاروق وانی عر ف ابرار ،پاکستان میں مقیم خالد ظفر حسین بٹ عرف خورشید کشمیری آف ساکن سری گفوارہ ، ناصر فاروق ساکن وانٹنگ محلہ بجبہاڑہ ، عامر حسین وانی اشاجی پورہ ، شمیم احمد بٹ ، عرف انکل ہیف، شرماہ شوپیاں ، توصیف احمد پنڈت ، سجاد احمد بٹ عرف افنان ، سرجیل احمد بٹ سکن ریشی پورہ قیموہ کولگام ، دانش احمد ٹھوکر ، عبیدا حمد پڈر اور دھوبی گاٹ اننت ناگ کے ساحل بشیر ڈار کے نام شامل ہے ۔ ایس آئی اے نے کہا کہ یاسر کے خلاف تحقیقات جاری ہے۔ایس آئی اے نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین سرحد پار سے دہشت گرد ہینڈلرز کی ہدایات پر کام کر رہے تھے، انکرپٹڈ آن لائن میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے مواصلات کو برقرار رکھتے تھے۔ایس آئی اے نے کہاکہ اس کیس کے سلسلے میں وادی بھر میں 32مقامات پر چھاپے ڈالے گئے تھے اور تحقیقات کے دوران مذکورہ افراد کے نام سامنے آئے تھے ۔