وزیر صحت نے کارروائی کا انتباہ دیا
سرینگر//یو این ایس / جموں و کشمیر کی وزیر صحت سکینہ ایتو نے ہفتہ کے روز نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین کو جاری احتجاج اور ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی پر واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ حکومت ایسا قدم اٹھانا نہیں چاہتی، تاہم این ایچ ایم ملازمین کی مسلسل غیر حاضری سے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ ایم کے ملازمین جموں و کشمیر کے صحت کے نظام کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کی خدمات کے بغیر صحت مراکز کے معمول کے کام کاج پر اثر پڑ رہا ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ اس طرح احتجاج کرنا مناسب نہیں ہے اور بعض اوقات حکومت کو ایسے اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں جو وہ خود نہیں چاہتی۔وزیر صحت نے کہا کہ حکومت نے این ایچ ایم ملازمین کی شکایات اور مطالبات کا جائزہ لینا پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے معاملات جن میں مرکزی حکومت کی مداخلت ضروری ہے، انہیں مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔سکینہ ایتو نے کہا کہ احتجاج شروع ہونے سے قبل انہوں نے ملازمین سے ملاقات کرکے انہیں ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مطالبات اور تجاویز جو جموں و کشمیر حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، پہلے ہی حکومت ہند کو بھیج دی گئی ہیں۔وزیر صحت نے این ایچ ایم ملازمین سے اپیل کی کہ وہ مریضوں کے مفاد اور صحت کی خدمات کے تسلسل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ہڑتال ختم کریں اور دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔










