انتظامیہ کی خاموشی باعث تشویش ،ٹھوس اور موثر اقدام اٹھانا ناگزیر
سرینگر / / وادی کشمیر میں آبی ذخائر اور ذرایع کی قدرتی خوبصورتی تباہی کے دہانے پر پہنچ رہا ہے کیونکہ خود غرض اور ناسمجھ لوگ گھروں سے نکلنے والے کوڑاکرکٹ کو چشموں ،جھیلوں ،ندی نالوں اور دریائوں میں ڈالنے میں کوئی پس پیش نہیں چھوڑتے ہیں اورگندی جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اوران خود غرض لوگوں کواس بات کا کوئی احساس نہیں ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی عظیم نعمت کوتباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔حالانکہ پانی کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہی نہیں بلکہ فرض عین ہے جہاں ان آبی وسائل سے کئی ممالک کو پانی ملتا ہے وہیں اور اس پانی سے ہی بجلی پروجیکٹ قائم ہیں وہیں یہ آبی وسائل یعنی دریا ،جھیل بہت سے طبقوں کیلئے رہائش اور روزگار کا ذریعہ بھی ہے ۔اس سلسلے میں وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا کہ دریا،جھیل ،چشمے اور ندی نالوں میںکوڑا کرکٹ ڈال کران کو تباہ کیا جارہا ہے جبکہ گند وغلاظت کو ٹھکانے لگانے کیلئے مخصوص جگہوں کا تعین کرنا لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر اور آب رواں کے گردونواح میں کوڈا کرکٹ ڈالنے سے یہ نعمتیں ہم سے چھن جاتی ہیں جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں کہ شہرودیہات میں لوگ پانی کے ایک ایک بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔ لیکن خود غرض اور ناشائستہ لوگوں کو اس کا ہرگز کوئی احساس نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائی قبل یہاں کے لوگ اس دریا کا پانی پینے اور دیگر کاموں کیلئے استعمال کررہے تھے ۔لیکن آجکل اس دریا کے پانی کو لوگ ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ تمام کوڑا کرکٹ اور گھروں کے بیت الخلاء و دیگر پانی کی ترسیل انہی آبی وسائل سے حاصل کرکے سپلائی کی جاتی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنرانتظامیہ کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیخلاف فوری طور ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں اور دریائوں ،ندی نالوں اور جھیلوں کے کناروں پر کوڈا کرکٹ ڈالنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ملوث افراد کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمارے ان قومی اثاثوں کا تحفظ یقینی بن سکے۔










