سری نگر//اِنتظامی کونسل کی ایک میٹنگ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں جموںوکشمیر اِنڈسٹریل لینڈ الاٹمنٹ پالیسی 2021-30میں ترامیم کو منظوری دی گئی۔محکمہ صنعت و حرفت نے تبدیلیوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے موجودہ پالیسی کو اَپ ڈیٹ کرنے میں مؤثریت کے لئے شراکت داروں کے خیالات اور تبصرے شامل کئے ہیں۔ فیڈ بیک کی بنیاد پر موجودہ پالیسی کی مختلف شقوں کو واضح کرنے کے لئے ترامیم شامل کی گئی ہیں تاکہ زمین کی الاٹمنٹ میں عمل کو آسان اور مؤثر بنایاجاسکے۔ پالیسی میں ترمیم میں لیز پریمیم میں وقتاً فوقتاً نظر ثانی، درخواستیں طلب کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر تشہیر، مسابقتی میرٹ کی بنیاد پر زمین کی الاٹمنٹ، قابلیت اور تجربے سمیت درخواست دہندہ ،پروموٹر ،کمپنیوں کے پس منظر کا تجزیہ ، سیکٹر مخصوص الاٹمنٹ کے لئے شعبے کے مخصوص تشخیصی معیار ، اَراضی الاٹمنٹ کمیٹیوں کے کام اور دائرہ اِختیار ، منسوخ شدہ الاٹمنٹ کی بحالی کے لئے ٹائم لائن وغیرہ فراہم کئے گئے ہیں۔جموں وکشمیر یوٹی کی معیشت کے لئے سٹریٹجک اہمیت رکھنے والی بڑی سرمایہ کاری کی حوصلہ اَفزائی کے لئے حکومت کم از کم 4000 کروڑ روپے کی کم سے کم سرمایہ کاری (زمین اور ورکنگ کیپٹل کو چھوڑ کر) کے ساتھ میگا پروجیکٹوں یعنی صنعتی و سروس سیکٹر یونٹوں کی اِکائیوں کو ترجیحی بنیادوں پر زمین الاٹ کرسکتی ہے۔ترامیم درخواست دہندگان کے درمیان مساوات اور شفافیت کو یقینی بنائیں گی۔ جموں و کشمیر اِنڈسٹریل لینڈ الاٹمنٹ پالیسی 2021-30 ء میں ترامیم سے بڑی سرمایہ کاری کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے جموںوکشمیر یوٹی میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔










