اننت ناگ کے بجبہاڑہ میںقائم مندر کی حفاظت32سال سے مسلمان کنبہ کر رہا ہے

اننت ناگ کے بجبہاڑہ میںقائم مندر کی حفاظت32سال سے مسلمان کنبہ کر رہا ہے

سری نگر//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بجہاڑہ علاقے میں کئی دہائیوں سے قائم ایک مندر کاسال1989سے ایک مسلمان کنبہ حفاظت کر رہا ہے ۔جو کشمیریت کی سب سے بڑی مثال ہے اس دوران اس قدم کی بڑے پیمانے پرعوامی حلقوں نے سراہنا کی جا رہی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جہاں ایک طرف ان دنوں فلم’’کشمیری فائلز‘پر بڑے پیمانے پرچرچے چل رہے ہیں۔وہی دوسری جانب وادی کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ سے قریب دو کول میٹر دورایک گائوں میں کئی دہائیوں سے قائم ایک مندر کی حفاظت سال1989سے ایک مسلمان کنبہ کر رہا ہے۔کنبے نے بتایا ہم اس مندر کی حفاظت کر رہے ہیں اور جب بھی کشمیری پنڈت یہاں آتے ہیں تو ہم انہیں چابی دیکر وہ اپنے مزہبی رسومات انجام دیتے ہیں ۔بلال احمدنامی ایک ناجوان نے بتایا جب سال1989میں کشمیری پنڈت یہاں سے ترک سکونت کر گئے ہیںتو ا س ’’زایہ دیدی مندر‘‘کی چابی اس کنبے کے پاس ہے جو اس مندر کی رکھوالی کرتے ہیں ۔قابل ذکر بات یہ کہ یہ مندر بہتر حالت اور خوبصورتی کے ساتھ یہاں موجود ہے۔انہوں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایااگر کبھی کبھار یہاں کسی کے چلنے کی آواز آتی ہے تو ہم رات کے وقت بھی سب باہر آتے ہیں ۔انہوں نے کہا یہاں پنڈت اور ہندو برادری کے بہت لوگ حاضری دینے کے لئے آتے ہیں اور وہ یہاں سے چابی لے کریہاں پوجا کرتے ہیں ۔انہوں نے کشمیری پنڈتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ واپس آئے اور اسی طرح ہمارے ساتھ رہے جس طرح پہلے رہتے تھے ۔ یہ خبر اس وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب کشمیر فائلز نامی فلم کو رلیز کرنے بعد اکثریتی طبقے کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے تاہم بیشتر کشمیری پنڈت کنبے آج بھی یہاں اسی پرانے ماحول میں رہتے ہیں جس طرح وہ پہلے رہتے تھے ۔