omar abdullah and mehbooba mufti

انجینئر رشید کو جیت پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی جیت جیل سے ان کی رہائی میں تیزی لائے گی / عمر عبد اللہ

عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں ،تمام کارکنوں اور لیڈروں کا شکریہ جنہوں نے محنت اور حمایت کی / محبوبہ مفتی

سرینگر // لوک سبھا انتخابات میں کشمیر کی دو پارلیمانی نشستوں سے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے آزاد امیدوار اور سابق رکن اسمبلی انجینئر عبدالرشید کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ سی این آئی کے مطابق لوک سبھا انتخابات میں کشمیر کی تین پارلیمانی نشستوں پر نیشنل کانفرنس نے دو میں جیت درج کر لی جبکہ ایک تہار جیل میں نظر بند انجینئر رشید نے جیت لی ۔ بارہمولہ میں انجینئر رشید نے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کو جبکہ اننت ناگ راجوری پارلیمانی حلقہ میں نیشنل کانفرنس کے امید وار میاں الطاف نے پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو شکست دی ۔ انتخابات میں شکست کے بعد دونوں لیڈران نے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے جیتنے والے امیدواروں کو مبارک باد دی اور ووٹران کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے ایکس پر لکھا ’’میرے خیال میں ناگزیر کو قبول کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انجینئر رشید کو شمالی کشمیر میں ان کی جیت پر مبارکباد۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی جیت جیل سے ان کی رہائی میں تیزی لائے گی اور نہ ہی شمالی کشمیر کے لوگوں کو وہ نمائندگی ملے گی جس کا انہیں حق ہے لیکن ووٹروں نے بات کی ہے اور جمہوریت میں یہ سب اہم ہے۔‘‘ادھر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی اننت ناگ راجوری لوک سبھا سیٹ سے بھی اپنی شکست تسلیم کر لی اور لکھا ’’عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے میں اپنے پی ڈی پی کارکنوں اور لیڈروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود ان کی محنت اور حمایت کے لیے‘‘۔انہوں نے مزید لکھا ’’ میں ان لوگوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ دیا۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے اور ہمیں اپنے راستے سے نہیں روکے گا۔ میاں صاحب کو ان کی جیت پر مبارکباد‘‘۔