سرینگر//انتظامی کونسل کی میٹنگ جو لفٹینٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقد ہوئی نے جموں میں ’’ سولر سٹی مشن ‘‘ کے تحت 200 میگاواٹ کے گرڈ سے جُڑے چھت والے سولر پاور پلانٹس کی تنصیب کو منظوری دی ۔ لفٹینٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بٹھناگر ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا اور لفٹینٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ یہ فیصلہ حکومت ہند کی گرڈ سے منسلک روف ٹاپ سولر اسکیم فیز سیکنڈ کو جموں و کشمیر میں رہائشی سیکٹر کیلئے لاگو کرنے کیلئے لیا گیا ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہر کی بجلی کی ضروریات شمسی توانائی سے پوری کی جائیں ۔ پروجیکٹ کے تحت جموں اور کشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی ( جے اے کے ای ڈی اے ) کی جانب سے اپنے ’’ سولر سٹی مشن ‘‘ کے تحت 1040 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے جموں شہر میں 50 ہزار رہائشی عمارتوں پر 200 میگاواٹ کے گرڈ سے منسلک چھتوں پر شمسی توانائی کے پلانٹ لگائے جائیں گے یہ منصوبہ مارچ 2024 تک مکمل ہو جائے گا اور اس کی زندگی 25 سال ہو گی ۔ سنٹرل سیکٹر اسکیم پراجیکٹ لاگت کے 40 فیصد کا مرکزی سبسڈی جزو فراہم کرتی ہے اور 3 کلو واٹ صلاحیت سے کم شمسی توانائی کے پینلز کی تنصیب کیلئے پروجیکٹ لاگت کا 25 فیصد ریاستی سبسڈی جزو فراہم کرتی ہے جس سے آگے مرکزی سبسڈی کا حصہ 20 فیصد پر رہتا ہے ۔ ڈی بی ٹی موڈ کے ذریعے مستفدین کو سبسڈی فراہم کی جائے گی ۔ ان چھتوں والے سولر پاور پلانٹس کو نیٹ میٹرنگ کی بنیاد پر گرڈ سے منسلک کیا جائے گا ۔ استفادہ کنندگان کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری تقریباً 4 سال کی ادائیگی کی مدت کے ساتھ توانائی کی بچت کے حساب سے 25 فیصد سالانہ کی شرح سے وصول کی جائے گی ۔ اس منصوبے کے نفاذ کے ساتھ جموں و کشمیر کو سالانہ تقریباً 280 ملین یونٹ توانائی کی پیداوار سے فائدہ پہنچے گا ، جس سے کاربن کے اخراج میں تقریباً 5.44 ملین ٹن کی کمی واقع ہو گی اس کے علاوہ بین ریاستی ترسیل 224 ملین یونٹس کے نقصانات کی وجہ سے ہونے والی بچتوں سے حاصل ہونے والے فوائد بھی حاصل ہوں گے ۔ روف ٹاپ سولر پروگرام کے ذریعے شمسی توانائی کی پیداوار جے اینڈ کے کے توانائی کے خسارے سے دو چار یو ٹی کو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مدد کرے گی ۔ جبکہ ڈسکامز کو قابلِ تجدید خریداری کی ذمہ داری ( آر پی او ) کے 10.5 فیصد کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کرے گی جیسا کہ حکومت ہند نے مقرر کیا ہے ۔










