بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر میں کسی بھی طرزکے انتخابات کیلئے تیار:ڈاکٹر جتندر سنگھ
سری نگر//مرکزی وزیر اور ممبر پارلیمنٹ اودھم پورڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہاہے کہ اُن کی جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر میں کسی بھی طرزکے انتخابات کیلئے تیار ہے‘۔تاہم انہوں نے کہا کہ الیکشن کب ہوں گے، کتنے مراحل میں، کتنے وقت میں، یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ایک خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے مرکزی وزیرڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے زبردست دباؤ کی وجہ سے دہشت گرد ٹارگٹ کلنگ کو انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب بھی تبدیلی آتی ہے تو اس طرح کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے۔ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اگرچہ بدقسمتی سے کہیں بھی ہو سکتے ہیں اور کسی بھی مذہب یا نظریے سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ’’نرم یا ٹارگٹ کلنگ‘‘ بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ دہشت گرد فرار ہیں کیونکہ ان پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔موصوف مرکزی وزیرکاکہناتھاکہ آج بازار بند نہیں ہیں، نہ پتھراؤ ہے اور نہ ہی بچوں کیلئے کھانے کی قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دہشت گرد فرار ہیں اور سیکورٹی فورسز کی طرف سے ان پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہاکہ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگ مرکزی دھارے میں واپس آ رہے ہیں۔ انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ جب لوگ مرکزی دھارے میں واپس آنے لگتے ہیں تو ایسے واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔ادھم پور کے رُکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کشمیری پنڈتوں کے اخراج کی وجہ سے وادی کشمیر کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مرکزی وزیرڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری، جو ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہیں، نے کبھی نہیں کہا کہ وہ واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی واپس (وادی میں) آ سکتے ہیں۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ انہیں بہترین سہولیات دی جانی چاہیں۔جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کب ہوں گے اس سوال کے جواب میں ڈاکٹرجتندر سنگھ نے کہا کہ اس موضوع پر کچھ کہنا، ان کے لیے درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کب ہوں گے، کتنے مراحل میں، کتنے وقت میں، یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کا تعلق ہے، وہ انتخابات کے لئیتیار ہے، چاہے وہ میونسپل انتخابات ہوں، ریاستی انتخابات ہوں یا لوک سبھا انتخابات۔










