سری نگر//امیرا کدل گرنیڈ حملے کی تحقیقات بڑے پیمانے پر جاری ہے اور اس حوالے سے جموں و کشمیر پولیس کو کچھ ٹھوس سراغ ملے ہیں اور ان تک رسائی بھی حاصل ہوئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کو بہت جلد بے نقاب کرکے قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔کے این ایس کے مطابق کہ جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر پولیس کے چیف نے کہا کہ امیرل کدل گرنیڈ حملے میں پولیس کو کچھ ٹھوس سراغ ملے ہیں جبکہ چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے اور امیرا کدل گرنیڈ حملے کے پیچھے کے ماڈیول کو جلد ہی بے نقاب کیا جائے گا۔ڈی جی پی نے مزید کہا کہ امن کے دشمن سرحد پار سے سازش رچا رہے ہیں جس سے امیرا کدل جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال امیرا کدل جیسے شہریوں پر حملے کرنے میں ملوث 85 ماڈیول پکڑے گئے ہیں اور اس سال تقریباً نصف درجن ماڈیولز کا پردہ فاش کیا گیا ہے جو شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔جموں کے ایک علاقوں میں دیکھے گئے ڈرونز پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اے ڈی جی پی جموں کی سربراہی میں ہماری ٹیمیں پار سے کی گئی سازش کو ناکام بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی کر رہے ہیں اور ہم دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔خیال رہے سرینگر کے ہری سنگھ ہائی سٹریٹ علاقے میں اتوار کے روز ایک ہیتھ گولہ بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر پھینکا گیا ہے جس دوران یہاں ایک بزرک شہری اور کم عمر لڑکی جاں بحق ہوئی ہے جبکہ32سے زیادہ راہ گیر اس حملے میں زخمی ہوئے تھے ۔










