امسال کشمیر میں آگ لگنے کے واقعات میں کمی درج ، 1946آگ کی وارداتیں رونما

گنجان والی آبادی والے علاقے اور تنگ گلیاں محکمہ کیلئے ایک بڑا چلینج ، افراد قوت میں کافی حد تک اضافہ ہوگیا / محکمہ فائر سروس

سرینگر // گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال میں ابھی تک 1946آگ کی وارداتیں رونماہوئی کا دعویٰ کرتے ہوئے محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس نے کہا کہ تعمیر میں لکڑی کے مواد کے کم استعمال کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں کشمیر میں آتشزدگی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق تعمیر میں لکڑی کے مواد کے کم استعمال کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں کشمیر میں آتشزدگی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے لیکن شہر سرینگر کی گنجان آبادی والے علاقے اور تنگ گلیاں محکمہ فائراینڈ ایمرجنسی کیلئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے اور آگ کے خطرے سے دوچار ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر فائر اینڈ ایمرجنسی سروس انجینئر عاقب حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ان کے پاس دستیاب اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے پورے کشمیر میں آتشزدگی کے واقعات میں زبردست کمی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ لوگ تعمیر میں بہت کم لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ نئے مکانات کی پہلی اور دوسری منزل کی لکڑی کی چھتوں کو کنکریٹ کے سیمنٹ کے سیلبوںسے بدل دیا گیا ہے جبکہ بیداری بھی لوگوں میں بڑھائی جا ری جس کے نتیجے میں آگ کی وارداتوں میںکمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرما آ رہا ہے اور اس موسم سرما میں آگ لگنے سے بچنے کیلئے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اٹھانے کی ضرورت اور الیکٹرانک چیزوں کا صیح سے استعمال کریں ۔ محکمہ کے عہدیدار نے بتایا کہ ہمارے لوگوں سے بار بار اپیل رہتی ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائے کہ حادثات کو کم کریں تاکہ انسانی جانوں کا زیاں نہ ہو سکے اور مال کی بھی حفاظت کریں ۔انہوںنے کہا کہ شہر سرینگر کے مرکز کے علاقوں میں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور تنگ گلیوں کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات کا خطرہ برقرار ہے جس کی وجہ سے آگ بجھانے کے وقت آگ بجھانے والوں کیلئے کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کشمیر بھر میں خاص طور پر شہر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ آگ لگنے کے واقعہ کی صورت میں پولیس اسٹیشنوں کو کال نہ کریں اور اس کے بجائے فوری طور پر 101 ڈائل کریں اور جائے حادثہ کا صحیح مقام بتائیں۔