670 مرکزی نیم فوجی کمپنیوں کی تعیناتی منظور، شاہراہوں اور ریلوے ٹریک پر ہائی الرٹ
سرینگر// یو این ایس// مرکزی وزارتِ داخلہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ اور اعلیٰ سیکورٹی حکام کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد رواں برس ہونے والی 57 روزہ شری امرناتھ جی یاترا کیلئے 670 کمپنیوں پر مشتمل سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی تعیناتی کو منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ سالانہ امرناتھ یاترا کیلئے اب تک کی سب سے بڑی نیم فوجی تعیناتی ہوگی، جس سے مرکز کی جانب سے یاتریوں کی حفاظت کو دی جانے والی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس سال شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست تک جاری رہے گی۔ تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی اس یاترا کے دوران ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مند جنوبی کشمیر کے برف پوش پہاڑوں میں واقع مقدس امرناتھ غار کا رخ کریں گے جہاں برف سے قدرتی طور پر بننے والے شیو لنگم کے درشن کئے جاتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ نے جموں و کشمیر کے اعلیٰ سیکورٹی افسران کے ساتھ کئی اہم میٹنگوں کے بعد جامع سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سی اے پی ایف اہلکاروں کو لکھن پور، جو جموں و کشمیر کا داخلی دروازہ تصور کیا جاتا ہے، سے لے کر جنوبی کشمیر ہمالیہ میں واقع مقدس غار تک تعینات کیا جائے گا۔تعیناتی کے دائرہ کار میں بالہ تل اور ننون،پہلگام کے دونوں یاترا راستے، بالتل اور ننون بیس کیمپ، جموں یاتری نواس، پٹھانکوٹ۔جموں قومی شاہراہ، جموں۔سرینگر نیشنل ہائی وے، اہم ٹرانزٹ پوائنٹس اور وہ تمام حساس مقامات شامل ہوں گے جہاں سے یاتریوں کی نقل و حرکت متوقع ہے۔حکام کے مطابق اضافی نیم فوجی کمپنیاں جون کے پہلے ہفتے سے جموں و کشمیر پہنچنا شروع ہو جائیں گی جبکہ مکمل سیکورٹی تعیناتی 25 جون تک مکمل کر لی جائے گی، تاکہ یاترا کے آغاز سے تقریباً ایک ہفتہ قبل تمام حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ذرائع نے کہا کہ بھارتی فوج بھی یاترا سیکورٹی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ فوج کو یاترا راستوں، مقدس غار اور ارد گرد کی اہم پہاڑی چوٹیوں پر تعینات کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر پولیس بھی پورے یاترا دورانیہ کے دوران سیکورٹی، ٹریفک کنٹرول، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور نگرانی کے معاملات میں سرگرم کردار ادا کرے گی۔سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ انتظامات اس انداز میں ترتیب دیے جا رہے ہیں کہ یاترا سیکورٹی کے باوجود جموں و کشمیر میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں متاثر نہ ہوں۔ ذرائع کے مطابق حساس علاقوں میں اضافی نگرانی، چیکنگ، گشت اور سرچ آپریشنز جاری رہیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ بالتل اور چندن واڑی یاترا راستوں کے علاوہ مقدس غار، جموں یاتری نواس، بالتل اور ننون بیس کیمپوں پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی جا رہی ہے۔ ان مقامات پر سیکورٹی کے کئی حصار قائم کئے جائیں گے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی، ڈرون سرویلنس، ڈاگ اسکواڈز اور بم ناکارہ بنانے والی ٹیمیں بھی متحرک رہیں گی۔یو این ایس کے مطابق شاہراہوں کی سیکورٹی کیلئے روڈ اوپننگ پارٹیاں روزانہ کی بنیاد پر تعینات کی جائیں گی جبکہ جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر مسلسل گشت اور ایریا ڈومینیشن آپریشنز کئے جائیں گے تاکہ یاتریوں کے قافلوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اس سال جموں۔سرینگر ریلوے ٹریک کو بھی غیر معمولی سیکورٹی حصار میں رکھا جائے گا کیونکہ بڑی تعداد میں یاتری وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کے ذریعے کشمیر پہنچنے کی توقع ہے۔ فی الحال جموں اور سرینگر کے درمیان دو وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں جبکہ یاترا کے دوران ٹرینوں کی تعداد میں اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق دھم پور، کٹرا، ریاسی، بانہال اور قاضی گنڈ سے گزرنے والے ریلوے سیکشنز پر پہلے ہی سخت حفاظتی انتظامات موجود ہیں تاہم یاترا سے قبل ان انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ریلوے اسٹیشنوں، پلوں، سرنگوں اور حساس تنصیبات پر اضافی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 اپریل سے شروع ہونے والی رجسٹریشن مہم کے دوران اب تک 3.5 لاکھ سے زائد یاتری اپنا اندراج کرا چکے ہیں جبکہ رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس سال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں یاتریوں کی آمد متوقع ہے۔یو این ایس کے مطابق یاتریوں کی رجسٹریشن ملک بھر میں جموں و کشمیر بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک اور یس بینک کی نامزد شاخوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن رجسٹریشن سہولت بھی دستیاب رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عقیدت مند آسانی کے ساتھ یاترا کیلئے اندراج کرا سکیں۔واضح رہے کہ 57 روزہ شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی کو بالتل،سونمرگ اور ننون،پہلگام راستوں سے بیک وقت شروع ہوگی جبکہ 28 اگست کو ساون پورنیما اور رکشا بندھن کے مقدس تہواروں کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔










