راجیہ سبھا کی چار نشستوں پر انتخابات کو لیکر غیر یقینی صورتحال جاری ، فی الحال جاری
سرینگر // جموں کے نگروٹہ اور کشمیر میں بڈگام کی سیٹ پر اسمبلی الیکشن دہلی اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہونے کا امکان ہے اور اس ضمن میں جلد ہی الیکشن کمیشن آف انڈیاکی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہوگا تاہم راجیہ سبھا کی چار نشستوں پر انتخابات کو لیکر غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی اور اس حوالے سے ابھی کوئی ماحول کو صاف نہیں کیا گیا ۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر میں دو خالی اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے اگلے سال فروری کے آغاز میں ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہونے کا امکان ہے تاہم اس بارے میں غیر یقینی صورتحال تھی کہ راجیہ سبھا کی چار خالی نشستوں کے لیے یو ٹی میں کب انتخابات ہوں گے کیونکہ اسمبلی کی تشکیل کو ڈھائی ماہ گزر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ستمبر اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں دونوں اسمبلی حلقوں سے الیکشن جیتنے کے بعد گاندربل کو برقرار رکھتے ہوئے بڈگام سیٹ چھوڑ دی جبکہ جموں کی نگروٹہ سیٹ بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر سنگھ رانا کے اچانک انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔اس وقت اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کی تعداد 41 ہے جبکہ بی جے پی کے پاس 28 ممبر اسمبلی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے دو خالی نشستوں سے متعلق مکمل ڈیٹا حاصل کر لیا ہے اور امکان ہے کہ ضمنی انتخابات کا اعلان دہلی کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ کیا جائے گا۔ موجودہ دہلی اسمبلی کی مدت 15 فروری 2025 کو ختم ہو رہی ہے اور 70 سیٹوں والے ایوان کے انتخابات فروری کے شروع میں ہونے کی امید ہے۔ضمنی انتخابات سے اسمبلی کی تعداد 90 ہو جائے گی جو فی الحال کم ہو کر 88 ہو گئی ہے۔ تاہم لیفٹنٹ گورنر کے ذریعہ پانچ ممبر اسمبلی کی نامزدگی کا انتظام ہے جو اب تک نہیں ہوا ہے۔ اس سے اسمبلی کی تعداد 95 ہو جائے گی۔ نامزدگیوں میں دو خواتین ممبر اسمبلی ، دو کشمیری تارکین بشمول ایک خاتون اور ایک پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کا مہاجر شامل ہے۔دریں اثنا، جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کی چار نشستوں پر انتخابات کے بارے میں ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے جو فروری 2021 سے خالی ہیں۔ مقننہ کی غیر موجودگی میں پہلے انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔ تاہم نئے ایوان کی تشکیل اکتوبر کے وسط میں ہوئی تھی اور ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود کمیشن نے ابھی تک انتخابات کا اعلان نہیں کیا ہے۔طریقہ کار کے مطابق راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو خالی آسامیوں کو الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہوتا ہے جس نے انتخابی شیڈول کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ انتخابات کا عمل قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹری کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جو ریٹرننگ افسر کے طور پر کام کرتا ہے۔نیشنل کانفرنس، کانگریس اور آزاد امیدواروں کا اتحاد راجیہ سبھا کی چار میں سے تین سیٹیں جیت سکتا ہے جبکہ بی جے پی ایک سیٹ پر محفوظ رہے گی جو بڑی پارٹیوں کو قانون ساز اسمبلی میں حاصل ہے۔جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کیلئے آخری انتخاب فروری 2015 میں ہوا تھا جب اس وقت کے بی جے پی ڈڈی پی اتحاد نے تین اور این سی کانگریس نے ایک سیٹ جیتی تھی۔










