اقتصادی بحران کے بیچ بجلی فیس میں اضافہ اوربلوں میں بلا جوزاضافی چارجز درج کرنا

اقتصادی بحران کے بیچ بجلی فیس میں اضافہ اوربلوں میں بلا جوزاضافی چارجز درج کرنا

صارفین کیلئے باعث پریشانی ،نصب شدہ میٹرس کی جانچ میں بھی بے ضابطگیاںکرنے کا انکشاف ، محکمہ پی ڈی ڈی حکام سے تحقیقات کا کیا مطالبہ

سرینگر //محکمہ پاورڈیولپمنٹ کی جانب سے مختلف علاقوں میںبجلی فیس کی غیرمعمولی اضافی چارجزکا اندراج کرکے صارفین کو بلیں ارسال کی جارہی ہیں۔ جس پرصارفین میںمحکمہ ہذا کیخلاف شدید غم وغصہ پایاجاتا ہے۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق محکمہ پی ڈی ڈی نے غیر ضروری طور بجلی فیس میں اضافہ کرکے صارفین کو بلیں ارسال کی جارہی ہیں ۔جن میں مقرر کردہ فیس سے کئی گنا زیادہ ماہانہ بلوں میںدرج کیا جارہا ہوتا ہے ۔جبکہ شہری علاقوں یا قصبہ جات میں اس سے بھی زیادہ فیس وصول کی جارہی ہے اورنصب شدہ میٹرس کی ریڈنگ کی جانچ کے دوران ایسا گڑ بڑ کیا جارہا ہے جس سے صارفین ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ اب صارفین کی بلیں سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں روپے کے حساب سے ارسال کی جاتی ہیں ۔جب محکمہ ہذا کے متعلقہ افسران سے اس بارے میں پوچھا جاتا ہے تو مجموعی طور ان کا جواب ہوتا ہے کہ لوگ بجلی کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اوران کا جواب اس حوالے سے نامعقول اور نامناسب ہوتا ہے ۔کیونکہ چوری کرنے والے بجلی صارفین کیخلاف کاروائی کرنا محکمہ کے افسران کی ذمہ داری ہے ۔جس طرح بلیں تیار کرنے میں اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔اسی طرح ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بجلی کے استعمال کے حوالے سے خصوصی اسکارڈ کو متحرک رکھنے میں اپنا رول ادا کریں ۔تب ممکن ہے کہ بجلی نظام مستحکم ہوجائے ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے بجلی صارفین نے بتایا کہ بجلی فیس میں اضافہ اور میٹرس کی ریڈنگ میں غلط جانچ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ایک تو بجلی شیڈول کے مطابق فراہم نہیں کی جاتی ہے اور کوروناوائرس کی وجہ سے لاک ڈاون اور میوہ صنعت میں نقصان وکاروبار متاثر ہونے سے لوگوں کی مالی حالت انتہائی ابتر ہوئی ہے ۔دوسری طرف محکمہ پی ڈی ڈ ی کی طرف سے ظلم اور ناانصافی کی تلوار لٹکتی رہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی فیس میں اضافہ کرنے کا اختیار تو یہ افسران رکھتے ہیں لیکن بجلی کی فراہمی میںلاعلمیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس وقت ذمہ داریوں سے پلے جھاڑنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس مالی ابتری کی صورتحال میں محکمہ ہذا نے 40فیصدی فیس میں اضافہ کیا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ پی ڈی ڈی کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات عمل میں لائی جائے۔ارسال کردہ بلوں پر نظر ثانی کی جائے ۔تاکہ انصاف کے تقاضے پورا ہوسکیں گے ۔بصورت دیگر صارفین اس حوالے سے آواز بلند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے