امریکی جیولوجیکل سروے نے کہا ہے کہ اتوار کے روز 6.3 شدت کے زلزلے نے مغربی افغانستان کو ہلا کر رکھ دیا جب کہ گزشتہ ہفتے آنے والے تباہ کن زلزلے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی خبر کے مطابق یو ایس جی ایس نے بتایا کہ زلزلہ صبح 8 بجے کے بعد آیا جس کا مرکز ہرات صوبے کے شہر ہرات سے 33 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔اس زلزلے کے 20 منٹ بعد 5.5 شدت کا آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا۔ریجنل ہسپتال ہرات کے ہیڈ ڈاکٹر عبدالقدیم محمدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اب تک 93 زخمی اور ایک جاں بحق شخص کا اندراج کیا گیا ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ حکام نے کہا کہ ابھی تباہی کے پیمانے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ہرات شہر میں موجود اے ایف پی کے رپورٹر نے بتایا کہ علاقے میں زلزلوں کا سلسلہ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی زیادہ تر رہائشی رات کے وقت آفٹر شاکس کی وجہ سے گھروں کے گرنے کے خوف کے باعث باہر سو رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے دوبارہ گھروں کے اندر سونا شروع کردیا ہے۔7 اکتوبر کو ہرات شہر کے اسی حصے میں 6.3 شدت کے ایک اور زلزلے اور آٹھ طاقتور آفٹر شاکس نے مضافتی علاقے میں مکانات کو زمین بوس کردیا تھا۔طالبان حکومت نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے جھٹکوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے ہفتے کے آخر میں یہ تعداد تقریباً ایک ہزار 400 بتائی۔ابتدائی زلزلوں کے بعد اسی شدت کے ایک اور زلزلے میں ایک شخص جاں بحق اور 130 دیگر زخمی ہوگئےتھے جب کہ ہزاروں شہریوں نے خوف کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑ دیا اور رضاکاروں نے زندہ بچ جانے والوں کے لیے کھدائی کی تھی۔زلزلے کے بعد مٹی کے طوفان آئے جس سے بچ جانے والے خیموں کو نقصان پہنچا۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 ہزار لوگ آفات سے متاثر ہوئے جن میں زیادہ تر اموات خواتین اور بچوں کی ہیں۔ہزاروں مکین اب اپنے گھروں کے کھنڈرات کے آس پاس رہ رہے ہیں جہاں ایک ہی لمحے میں ایک پورے خاندان کا صفایا ہو گیا تھا۔چالیس سالہ محمد نعیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے زلزلوں کے بعد اس نے اپنی والدہ سمیت 12 رشتہ داروں کو کھو دیا، ہم یہاں مزید نہیں رہ سکتے، یہاں ہمارا خاندان شہید ہوا، ہم یہاں کیسے رہ سکتے ہیں؟صحت عامہ کے وزیر قلندر عباد نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ وہاں ایک ماہ تک خیموں میں رہ سکتے ہیں، لیکن اس سے زیادہ شاید بہت مشکل ہو گا،“ صحت عامہ کے وزیر قلندر عباد نے کہا۔










