جموں//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران اراکین کی طرف سے متعدد اہم عوامی مسائل اُٹھائے اور حکومت سے بروقت مداخلت اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ممبر قانون ساز اسمبلی غلام احمد میر نے یہ مسئلہ اٹھایا کہ جنوبی کشمیر میں کسانوں کو زرعی و باغبانی مشینری کے لئے درکارفیول مناسب مقدار میں فراہم نہیں کیا جا رہاکیوںکہ پیٹرول پمپوں پر کھلے عام فیول کی فروخت پر پابندیاں عائد ہیں۔رُکن قانون سازاسمبلی راجیو جسروٹیہ نے راشن کارڈوں کی تقسیم کا مطالبہ کیا تاکہ مستحق شہریوں کو مرکزی حکومت اوریونین ٹیریٹری کی مختلف سماجی بہبود سکیموں سے فائدہ اُٹھانے کا موقعہ مل سکے۔ایم ایل اے بلونت سنگھ منکوٹیہ نے مطالبہ کیا کہ تقاریراور ایوان کی کارروائی کی کاپیاں تمام قانون سازوں کو ماضی کے طرز ِعمل کے مطابق فراہم کی جائیں۔رُکن اسمبلی خورشید احمد نے گول گلاب گڈھ کو پہاڑی ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے ایل پی جی کی قلت کا مسئلہ اُٹھایا اور مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے ابھی تک ای۔کے وائی سی نہیں کروائی، انہیں بھی سہولیت فراہم کی جائے اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔ایم ایل اے غلام محی الدین میر نے پلوامہ اور بڈگام اضلاع کے درمیان آبپاشی کے پانی کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ اُٹھایا کیوں کہ یہ مسئلہ یہاں رہنے والے لوگوں کے درمیان تنازعہ کی شکل اِختیار کر سکتا ہے۔رُکن قانون ساز اسمبلی علی محمد ڈار نے چاڈورہ ڈویژن کی سب ڈویژن کنی پورہ کو رام باغ علاقے سے اس کی اصل جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ عوام کو سہولیت ہو۔ممبر قانون ساز اسمبلی جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے اَپنے حلقے میں واقع وہاب کھار صاحب درگاہ پرعقیدت مندوں کی سہولیت کے لئے اے ٹی ایم مشین نصب کرنے کا مطالبہ کیا۔ایم ایل اے قیصر جمشید لون نے اَپنے حلقے میں نہروں کی صفائی کا مطالبہ کیا تاکہ آبپاشی کی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں۔رُکن اسمبلی نذیر احمد خان نے دفاعی فورسز کی جانب سے استعمال کی گئی اراضی کے کئی سالوں سے بقایا کرایہ،معاوضہ کا مسئلہ اُٹھایا اور مالکان کے حق میں ادائیگیوں کو فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ایم ایل اے مُبارک گُل نے اپنے حلے میں نہروں اور نالوں کی صفائی کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ممبر قانون ساز اسمبلی مظفر اقبال خان نے اپنے حلقے میں کریشر پلانٹوں کی بندش کی وجہ سے تعمیراتی سامان کی بڑھتی قیمتوں اور مبینہ بلیک مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔رُکن قانون ساز اسمبلی جاوید ریاض بیدار نے آبپاشی لِفٹنگ پمپوں کی مرمت اور ان کی فعالیت کے لئے مناسب بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ زرعی سیزن کے دوران کسانوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ایم ایل اے شکتی راج پریہار نے نشاندہی کی کہ ضلع ڈوڈہ حادثات کے حوالے سے حساس علاقہ ہے اور وہاں طبی عملہ، پیرا میڈیکل سہولیات اور ایمبولینس کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا مطالبہ کیا۔ایم ایل اے کلدیپ راج دوبے نے جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے ان اُمیدواروں کا مسئلہ اٹھایا جنہوں نے امتحانات میں کوالیفائی کیا اورجموں و کشمیر ہائی کورٹ اور سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کی طرف سے ان کی تقرریوں کے سلسلے میں جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سڑکوں کی توسیع کے دوران متاثرہ مکانات کے مالکان کو معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ایم ایل اے آغا سید منتظر مہدی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ آئندہ محرم کی تقریبات کے لئے مناسب انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے پیشگی میٹنگ طلب کرے ۔ ممبر اسمبلی سجاد غنی لون نے حکومت سے سرکاری کمرشل لیز سے متعلق معاملات پر وضاحت طلب کی۔رُکن اسمبلی جاوید اِقبال چودھری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اَساتذہ کو مردم شماری کے کام میں مصروف کیا جا رہا ہے جس سے طلبأ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ایم ایل اے ظفر علی کھٹانہ نے قبائلی کمیونٹیوں کے لئے جو اپنے مویشیوں کے ساتھ موسمی طور پر وادی کشمیر کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں، اجازت نامے کی شرط سے استثنیٰ کا مطالبہ کیا۔رُکن قانون ساز اسمبلی پیرزادہ فیروز احمد شاہ نے اپنے حلقے کے بونیگام علاقے میں جموں و کشمیر بینک کی شاخ کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ مقامی باشندوں اور تاجروں کو سہولیت فراہم ہو سکے۔
یورپ میں شدید گرمی : اسکول بند، ٹرین خدمات متاثر
لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، بچوں اور خواتین سمیت 7 افراد شہید
بین گور -”لبنان ‘اسرائیل کا کھیل کا میدان ہونا چاہیے’
مغربی بنگال بجٹ ۔ اقلیتوں کے فنڈز میں 3548 کروڑ روپئے کی کٹوتی
لکھنو کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں بھیانک آگ لگ گئی ۔ 15 افراد ہلاک
برق رفتار سفر کیلئے 7 روٹس کو مل گئی منظوری
سی جے پی کے مظاہرین مسلسل تیسرے دن بھی جنتر منتر پر موجود ہیں
این ٹی اے نے لیک ویڈیو کو جعلی قرار دیا، این ای ای ٹی کا دوبارہ امتحان کامیابی سے منعقد ہوا
اجین میں آدیواسی خاتون کی 12 سالہ بیٹے کے سامنے اجتماعی عصمت دری کی گئی
خام تیل کے تین ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکل گئے










