نئی دہلی/ ایجنسیز//گزشتہ سال اکتوبر میں مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ اور راجستھان میں کف سیرپ پینے سے بچوں کی ہوئی اموات نے لوگوں کو بہت خوف زدہ کر دیا تھا۔ دوا کے استعمال کے سبب کئی بچوں کی گردے فیل ہونے سے موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز نے بچوں کے علاج کیلئے استعمال ہونے والے کف سیرپ کے استعمال کے بارے میں ہدایت جاری کی تھی۔ جانچ میں پایا گیا تھا کہ سیرپ میں ڈائیتھلین گلائیکول (ڈی ای جی) کی مقدار 48 فیصد سے زیادہ تھی جبکہ قابل قبول حد صرف 0.1 فیصد ہے۔ منگل 16 جون کو مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت کف سیرپ سمیت دیگر سیرپ والی دوائیں اب ڈاکٹر کی پرچی کے بغیر نہیں ملیں گی۔ اب ایسی دوائیں خریدنے کے لیے ڈاکٹری نسخہ ضروری ہوگا۔یہ تبدیلی حکومت کی جانب سے ’ڈرگز رولز، 1945‘ میں ’ڈرگز (پانچواں ترمیمی) رولز، 2026‘ کے ذریعہ کی گئی ترمیم کے بعد سامنے آئی ہے۔
اس ترمیم کو 9 جون کو سرکاری گزٹ میں نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ حکومت نے ’ڈرگز رولز، 1945‘ میں جو تبدیلی کی ہے، اس کے تحت ’شیڈول-کے‘ میں مستثنیٰ ادویات کی فہرست سے سیرپ کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد سیرپ پر مبنی دواؤں کی ’اوور دی کاؤنٹر‘ (ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر) فروخت پر پابندی لگ گئی ہے۔ اعتراضات اور تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد مرکزی حکومت نے ڈرگز ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ (ڈی ٹی اے بی) سے مشورہ کر کے اس تبدیلی کی منظوری دی ہے۔










