online

آن لائن فراڈ کے معاملات میں اضافہ

ملک کی مختلف ریاستوں اور یوٹیز سے 18افراد گرفتار

سرینگر//ملک میں سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ کے معاملات بڑھنے کے بعد مختلف ریاستوں اور یوٹیز میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 18افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جن پر 319آن لائن فراڈ کے معاملات درج ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ملک کی کئی ریاستوں میں اتوار کے روز سائبر ٹھگی کے معاملہ میں کارروائی کی گئی ہے اور چھاپہ ماری کرتے ہوئے کم از کم 18 ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار شدگان پر 319 سے زیادہ سائبر دھوکہ دہی کے معاملہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حیدرآباد سٹی سائبر کرائم یونٹ نے کرناٹک، مہاراشٹر اور راجستھان سمیت الگ لگ ریاستوں میں 6 ٹیموں کے ساتھ ایک خصوصی آپریشن کے ذریعہ ان 18 سائبر کرائم کے ملزمین کو گرفتار کیا۔نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد شہر کے پولیس کمشنر سی وی آنند نے کہا کہ ان گرفتار کیے گئے لوگوں پرپ سرمایہ کاری فراڈ، ڈیجیٹل آریسٹ، جنسی استحصال، او ٹی پی دھوکہ دہی اور کروڑوں روپے کے بیمہ کے نام پر دھوکہ دہی جسے سنگین معاملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمین سے 5 لاکھ روپے نقد اور 26 موبائل فون ضبط کیے گئے ہیں۔ وہیں ان کے بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 61 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم پائی گئی ہے۔حال ہی میں مہاراشٹر پولیس نے بھی ایک 7 سالہ پرانے دھوکہ دہی ے معاملہ میں آندھرا پردیش کے 3 لوگوں کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ ابھی دو روز قبل مدھیہ پردیش کے اندور میں بھی محکمہ جوہری توانائی کے تحت ایک ادارہ کے سائنسدانوں کو ’ڈیجیٹل آریسٹ‘ کر کے جعلسازوں نے 71 لاکھ روپئے کا نقصان پہنچایا۔واضح ہو کہ ’ڈیجیٹل آریسٹ‘ دھوکہ دہی کا ایک نیا طریقئہ کار ہے جس کے تحت سائبر مجرمین خود کو قانونی حکام کے طور پر پیش کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کرتے ہیں۔ اس میں مجرمین افراد کو فون یا ویڈیو کال کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ وہ کسی قانونی معاملے میں ملوث ہیں۔ اس صورتحال میں، وہ ان پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگر وہ فوری طور پر ایک مخصوص رقم ادا نہ کریں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔