ادارے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ہاسپٹیلٹی، فیشن ڈیزائننگ ، موبائل سافٹ ویر کی تربیتی کورس متعارف کئے جائیں
سرینگر/ //آئی ٹی آئی اننت ناگ میں ’’ڈیجیٹل ‘‘ آئی ٹی، موبائل مرمت ، سافٹ ویر ، سولر اور مہمان نوازی کے شعبہ جات متعارف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے میں تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کوموجودہ دور کے مطابق روزگار حاصل ہوسکے ۔ اس کے علاوہ آئی ٹی آئی اننت ناگ میں مختلف شعبہ جات میں نشستوں کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ ہر سال ایک ایک شعبہ میں تربیت حاصل کرنے کیلئے ہزاروں درخواستیں موصول ہوتی ہیں جبکہ ادارے میں نشستوں کی کمی کی وجہ سے چند ہی امیدوار داخلہ حاصل کرسکتے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق موجودہ بے روزگاری کے دور میںتعلیم یافتہ نوجوان سرکاری نوکری کے پیچھے بھاگنے کے بجائے پرائیویٹ سیکٹروں میں اپنا روزگار تلاش کررہے ہیں خاص کر مختلف ہنروں کی تربیت حاصل کرکے نوجوان خود انحصاری کی طرف راغب ہورہے ہیں تاہم سرکاری سطح پر قائم کئے گئے تربیتی مراکز میں نشستوں کی کمی سے وہ ذہنی کوفت کے شکار ہورہے ہیں ۔ ٹریڈ آف گورنمنٹ آئی ٹی آئی اننت ناگ 1962میں قائم ہوا ہے جہاں پر ا س وقت 38شعبوں میں 859سیٹیں ہیں جہاں طلبہ مختلف ہنروں جیسے الیکٹریشن ، پلمبری ، فیشن ڈیزائن، ٹیلرنگ اینڈ کٹنگ، ٹیلی ویژن رپیرنگ جیسے عام شعبوں میں تربیت حاصل کررہے ہیں تاہم ادارے میں مزید جدید ہنروں کی تربیت شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ اس ضمن میںبات کرتے ہوئے پرنسپل آئی ٹی آئی انجینئر عمران وجاہت نے کہا کہ اگر سرکار اس طرح توجہ دے گی تو کالج میں زیادہ سے زیادہ طلبہ کو تربیت فراہم کی جائے گی ۔ا نہوںنے بتایا کہ کالج کے زیر تسلط 21کنال اراضی ہے جہاں پر 100بیڈ والا ہوسٹل تعمیر ہورہا ہے تاہم یہاں پر مزید عمارتیں تعمیر کرنے کی کافی گنجائش ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ کالج میں ہر سال مختلف شعبوں میں داخلہ فارم جاری کئے جاتے ہیں اور 30سے 35والے شعبے میں داخلہ کیلئے ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی ہیں جس کی وجہ سے امیدوار بغیر داخلہ لئے ہی واپس چلے جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر سرکار کالج میں مزید نشستیں بڑھانے کو منظوری دے گی تو زیادہ سے زیادہ نوجوان تربیت حاصل کرسکتے ہیں ۔ا نہوں نے بتایا کہ آئی ٹی آئی میں عملہ کی بھی کمی نہیں ہے اس لئے نشستیں بڑھانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ا نہوںنے بتایا کہ اس کے علاوہ روایتی تربیتی کورسوں کے علاوہ جدید شعبہ جات جیسے موبائل سافٹ ویر، ہارڈ ویر ، کمپوٹر ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ٹورازم سے متعلقہ ، فیشن ڈیزائن ، سولر سسٹم وغیرہ جیسے نئے شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جانے چاہئے کیوں کہ موجودہ دور میں مذکورہ ہنروں کی زیادہ ڈیمانڈ ہے اور اگر بیرون ملک بھی نوجوان روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں تو ان ہی شعبوں میں روزگار کے زیادہ وسائل موجود ہیں۔










