v

SIAٹیموں کی سرجان برکاتی کے گھر سمیت کئی مشتبہ مقامات پر چھاپے ماری

الیکٹرانک آلات، مجرمانہ مواد اور دیگر مصدقہ شواہد کی ضبطی،10 مشتبہ افراد کی نشاندہی

سری نگریکم اپریل2023 سے پہلے50 فیصد بجٹ جاری ہونے کاامکان جموں و کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کی ٹیموں نے ہفتہ کی صبح 8 مختلف مقامات پر چھاپے ڈالکرتلاشی شروع عمل میں لائی تاکہ جنوبی کشمیر کے معروف علیحدگی پسند سرجان برکاتی کے ذریعے بہنے والے جمع اوراستعمال شدہ فنڈز کی تحقیقات کوآگے بڑھایاجائے۔جے کے این ایس کے مطابق SIA نے ہفتہ کو کہا کہ پائیڈ پائپر کے نام سے مشہور سرجنان برکاتی کھلے عام نوجوانوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے اور جموں و کشمیر میں ہندوستانی ریاست کو گرانے کی دعوت دیتا تھا۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے سرجان برکاتی اور دیگر کیخلاف کراؤڈ فنڈنگ سے متعلق ایف آئی آرزیر نمبر 2/2023 درج کیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ سرجان برکاتی اوردیگر ملزمان نے2016میںتقریباًڈیڑھ کروڑ سے زیادہ کی بھاری رقم اکٹھی کی ہے۔ اس کے اہل خانہ نے عام لوگوں سے جذباتی اپیل کی ہے کہ وہ روزمرہ کی ضروریات ان کی حمایت کریں۔ SIAکے مطابق اس آڑ میں سرجان برکاتی نے نہ صرف بھاری فنڈزجمع کئے بلکہ اس نے نامعلوم ذرائع سے پیسہ بھی لانڈر کیا جس کے بارے میں شبہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے علیحدگی پسند دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھنے کیلئے مزید استعمال کیا گیا ہے۔بیان میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے کہاکہ اب تک ایجنسی نے 10 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی ہے جن کی شمولیت ابتدائی تفتیش میں سامنے آئی ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ کشمیر کے کئی اضلاع میں ہفتہ کی صبح سے چھاپے مارے گئیْ۔ایجنسی نے کہا کہ ہر تلاشی کو مجاز عدالت، مجسٹریٹس، مقامی پولیس کی مدد، لیڈی پولیس ٹیم، سپوٹرز، اور جموں و کشمیر پولیس کے سیکورٹی ونگ کی طرف سے ٹرانسپورٹ سپورٹ کے ذریعے جاری کردہ سرچ وارنٹ کی حمایت حاصل ہے۔بیان کے مطابق ان تلاشیوں کے دوران الیکٹرانک آلات، مجرمانہ مواد اور دیگر مصدقہ شواہد کی ضبطی کیساتھ، SIA کو امید ہے کہ یہ تلاشیاں اسے کچھ اہم شواہد حاصل کرنے کے قابل بنائے گی کہ کس نے سرجان برکاتی فنڈ میں تعاون کیا، اس کا ذریعہ کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس میں سے کتنی رقم جائز آمدنی سے تھی اور کتنی غیر محسوب ذرائع سے، آیا ان ذرائع کا دہشت گردی اور حریت کی مالی اعانت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ایس آئی اے نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سرجان برکاتی نے فنڈز کا کافی حصہ اپنے ذاتی فائدے کیلئے ہڑپ کیا اور اننت ناگ قصبے میں اپنی بیوی کے نام 45 لاکھ روپے کی زمین خریدی جسے اس نے72 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا،اور27 لاکھ روپے کا منافع اور عوام کے پیسے کا استعمال کرتے ہوئے ایک شاندار گھر بھی بنایا ہے۔اس نے مدرسہ کے قیام کیلئے 5 کنال اراضی بھی خریدی ہے جو کہ مصدقہ معلومات کے مطابق پیسہ کمانے اور ملک دشمن عناصر کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے ہے اور اس کا مقصد نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایک افزائش گاہ بنانا ہے۔SIAنے مزیدکہاکہ اس طرح کی ناجائز رقم کا ایک بڑا حصہ سرجان برکاتی کے خاندان کے افراد کے نام کئی ایف ڈی آرز میں جمع کرایا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم نے نہ صرف جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ روزمرہ کے رزق کیلئے عوام کی طرف سے دئیے گئے کراؤڈ فنڈز، اس نے علیحدگی پسندوعسکریت پسندوں کی مہم کو آگے بڑھانے کے لئے کراؤڈ فنڈنگ کی آڑ میں مشتبہ ذرائع سے آنے والی رقم کو بھی چھپایا۔