300کروڑ روپے رشوت کے عوض2فائلوں کوکلیئر کرنے کامعاملہ
سری نگر//مرکزی تفتیشی بیورو ’سی بی آئی ‘ نے جموں وکشمیراور میگھالیہ کے سابق گورنر ستیہ پال ملک سے دہلی میں سی بی آئی ہیڈکوارٹر میں ان کے الزامات پر پوچھ گچھ کی کہ جب وہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے تو اُنہیں2 فائلوں کو کلیئر کرنے یااُنکومنظوردینے کے عوض300 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔جے کے این ایس کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایاگیاکہ مرکزی تفتیشی بیورو ’سی بی آئی ‘ نے جموں وکشمیراور میگھالیہ کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کودہلی میں واقع ہیڈکوارٹر طلب کیا،جہاں ہفتے کے روز اس بھاری رشوت کی پیشکش کے اس مبینہ معاملے کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی ۔خیال رہے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے گزشتہ برس یہ دعویٰ کیا تھا کہُ انہیں امبانی اور آر ایس ایس سے وابستہ ایک شخص کی 2فائلوں کو اپنے دور حکومت میں کلیئر کرنے کے لئے300 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے ٹھکرا کر سودے منسوخ کر دئیے۔تاہم، ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے مزید دعویٰ کیا تھاکہ وزیر اعظم نے ان کی حمایت کی ہے، اور کہا کہ بدعنوانی پر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ستیہ پال ملک نے یہ بھی الزام لگایا تھاکہ کشمیر ملک میں سب سے کرپٹ جگہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اکتوبر 2018 میں،سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے ملازمین کو گروپ ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کیلئے ریلائنس جنرل انشورنس کمپنی کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا تھا کیونکہ اس میں کچھ گڑھ بڑھ پائی گئی تھی ۔2 دن بعد، ستیہ پال ملک نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ کو منسوخ کرنے کی منظوری دی اور معاملے کو انسداد بدعنوانی بیورو (ACB) کے پاس بھیج دیا تاکہ اس پورے عمل کی جانچ کی جا سکے کہ آیا یہ شفاف اور منصفانہ طریقے سے انجام پایا ہے۔ستیہ پال ملک نے کے بقول احتیاط کے طور پر، میں نے وزیر اعظم سے وقت لیا اور انہیں2 فائلوں اور اسکینڈل کے بارے میں بتایا کیونکہ اس میں ملوث لوگ ان کا نام لے رہے تھے۔ ستیہ پال ملک کاکہناتھاکہ میں نے وزیراعظم سے ً کہا کہ میں جموںوکشمیرکے گورنر کاعہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں لیکن اگر میں پیچھے رہوں گا تو میں فائلوں کو صاف نہیں کروں گا۔ انہوں نے وزیراعظم مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی نے مجھ سے کہاکہ کرپشن پر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔










