زراعت جموں وکشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ۔وزیرا علیٰ

زراعت جموں وکشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ۔وزیرا علیٰ

کہا، حکومت کسانوں کو بااِختیار بنانے کیلئے پُر عزم

سری نگر//ڈاکٹر منگلارائے ،معروف زرعی سائنسدان اور سابق ڈائریکٹر جنرل اِنڈین کونسل آف ایگری کلچر ریسرچ ( آئی سی اے آر) کی سربراہی میں ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی) کی اعلیٰ کمیٹی نے آج وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی کے لئے ایچ اے ڈی پی کی عمل آوری کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ دیگر کمیٹی اراکین میں سیکرٹری نیشنل اکیڈمی آف ایگری کلچرل سائنسز (این اے اے ایس)ڈاکٹر پی کے جوشی، سابق ڈائریکٹرآئی اے آر آئیڈاکٹر ایچ ایس گپتا،وائس چانسلر سکاسٹ کشمیرپروفیسر نذیر احمد گنائی،وائس چانسلر سکاسٹ جموں ڈاکٹر بی این ترپاٹھی اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جے پی شرما بھی موجود تھے۔اِس موقعہ پر مشن ڈائریکٹر’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی)‘ جموں و کشمیر سندیپ کمار بھی موجود تھے۔ دورانِ بات چیت ڈاکٹر منگلا رائے نے’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈِی پی)‘ کا مجموعی خاکہ پیش کیا اور پروگرام کے اَقدامات پر جامع دو سالہ پیش رفت رِپورٹ پیش کی۔ اُنہوں نے پروگرام کی مؤثر عمل آوری اور اس کے اثرات بڑھانے کے کئے کئی تجاویز بھی پیش کیں۔اُنہوں نے وزیر اعلیٰ کو ایپکس کمیٹی کے رول سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ کمیٹی جامع زرعی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ذریعے ایچ اے ڈِی پی کی نگرانی اور عمل آوری کی ذمہ دار ہے تاکہ زرعی شعبے کو جدید بنایا جا سکے اور کسانوں کے سماجی و اِقتصادی حالات میں بہتری لائی جا سکے۔ڈاکٹر منگلا رائے نے وزیر اعلیٰ کو اپیکس کمیٹی کے ذریعے’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی)‘ جاری تین روزہ مڈ ٹرم جائزہ (2023-2025)کے بارے میں بھی بتایا جس کا آغاز کل سے شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(سکاسٹ) کشمیر میں ہو چکا ہے اور آئندہ دو روز تک یہ مشاورت جاری رہے گی تاکہ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی)‘ کے تمام اہداف کے کامیاب حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کمیٹی اراکین سے بات چیت کرتے ہوئے دیرپا زرعی ترقی، تنوع اور کسان کمیونٹی کو بااختیار بنانے کے لئے ایک جامع روڈ میپ پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہیلتھ سوئیل، پانی کے اِنتظام، جدید زرعی تکنیکوں اور منڈی سے روابط جیسے شعبہ جاتی چیلنجوںکے حل کے لئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کا ایک مرکزی ستون ہے اور حکومت کسانوں کو جدید ذرائع، قرضہ جات، ٹیکنالوجی اور منڈیوں تک رسائی فراہم کر کے ایک سازگار ماحول مہیا کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک بھر میں زرعی شعبے کے لئے ایک رول ماڈل کے طور پر اُبھر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے ایچ اے ڈِی پی کی عمل آوری میں پیش رفت کے لئے ایپکس کمیٹی کی سراہنا کرتے ہوئے باغبانی اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کومؤثر فروغ دینے، دیہی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے لئے ایک مضبوط سپورٹ فریم ورک کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کمیٹی کو یقین دِلایا کہ حکومت ترقی پسند پالیسی اقدامات اور ایپکس کمیٹی کے ساتھ فعال اِشتراک عمل کے ذریعے خطے کی زرعی ترقی کو تیز کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ دورانِ میٹنگ وزیر اعلیٰ نے سکاسٹ کشمیر اورسکاسٹ جموں کے وائس چانسلران کو دونوں یونیورسٹیوں میں تدریسی و تحقیقی ماحول میں نمایاں بہتری پر سراہا اوراین آئی آر ایف رینکنگ میں سکاسٹ کشمیرکوساتویںاور سکاسٹ جموںکو 23ویں پوزیشن حاصل کرنے پر ان کی ستائش کی۔