جموں و کشمیر میں خواتین پر تشدد میں اضافہ

جموں و کشمیر میں خواتین پر تشدد میں اضافہ

سرکاری رپورٹوںنے سنگین صورت حال کو بے نقاب کیا

سرینگر//جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کی صورتحال ایک سنگین اور پریشان کن رخ اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ سرکاری رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس خطے میں خواتین پر ہونے والے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کی علامت بھی ہے۔دو مختلف معتبر ذرائع، ضلع بہتر انتظامیہ انڈیکس (District Good Governance Index) اور نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB)—کی رپورٹوں نے خواتین پر تشدد، ہراسانی، گھریلو زیادتی اور دیگر جرائم کے متعلق خطرناک اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی 9 ماہ میں جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف 2,295 جرائم رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ گھریلو تشدد کے کیس (32 فیصد) تھے، جنسی زیادتی کے 28 فیصد، ہراسانی کے 21 فیصد، اور اسمگلنگ سے متعلق 15 فیصد کیس شامل تھے۔دوسری جانب، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے پچھلے تین برسوں کے دوران خواتین کے خلاف تقریباً 12 ہزار جرائم کی نشاندہی کی ہے، جن میں سالانہ بنیادوں پر 3,800 سے 4,100 کیس درج ہوئے۔ 2021 میں 3,900، 2022 میں 3,800، اور 2023 میں 4,100 کیس رپورٹ ہوئے، جن میں چھیڑ چھاڑ، گھریلو تشدد، اغوا، اور دیگر قابلِ گرفت جرائم شامل تھے۔ یہ مسلسل بڑھتا ہوا گراف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کا تحفظ ایک بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کے باوجود، اصل صورت حال اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہو سکتی ہے۔ معاشرتی بدنامی، انتقامی کارروائی کا خوف، اور معاون نظاموں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بیشتر خواتین خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس میں مجرم خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔کام کی جگہوں، تعلیمی اداروں، اور عوامی مقامات پر مناسب قوانین کے نفاذ اور مؤثر شکایتی نظام کی غیر موجودگی نے اس بحران کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ ماہرین، سماجی کارکنان، اور شہری تنظیمیں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خواتین کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کیا جائے، شکایات درج کروانے کا نظام آسان اور قابلِ اعتماد بنایا جائے، اور معاشرتی سطح پر شعور بیداری مہمات چلائی جائیں۔حکومت، متعلقہ اداروں، اور سماجی تنظیموں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کریں تاکہ جموں و کشمیر کی خواتین خود کو محفوظ، بااختیار، اور باعزت محسوس کر سکیں۔