ملک کے آلودہ شہروں کی فہرست میں سرینگر کا نام نہیں ، ماہرین ماحولیات کااظہار اطمینان
سرینگر///دنیا کے 20 سب سے آلودہ شہروں کی فہرست سامنے آگئی ہے۔ اس فہرست میں اکیلے ہندوستان کے 13 شہر شامل ہیں۔ملک کے ان آلودہ شہروں میں سرینگر کا نا م نہیں ہے جس پر ماہرین ماحولیات نے اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرینگر کو آلودگی سے بچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ آئی کیو ایئر کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا کا 5واں سب سے آلودہ ملک ہے۔ یہ اعداد و شمار سال 2024 کو لے کر جاری کیا گیا ہے جبکہ 2023 میں ہندوستان تیسرے مقام پر تھا۔وائس آف انڈیا کے مطابق دنیا کے 20 سب سے آلودہ شہروں کی فہرست سامنے آگئی ہے۔ اس فہرست میں اکیلے ہندوستان کے 13 شہر شامل ہیں۔تاہم ان میںسرینگر کا نام نہیں ہے ۔ ان میں بھی سب سے زیادہ آلودہ شہر میگھالیہ کا برنی ہاٹ ہے۔ آئی کیو ایئر کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق دہلی دنیا کی سب سے آلودہ راجدھانی بنی ہوئی ہے۔ وہیں ملکوں کے لحاظ سے بات کریں تو ہندوستان دنیا کا 5واں سب سے آلودہ ملک ہے۔ یہ اعداد و شمار سال 2024 کو لے کر جاری کیا گیا ہے جبکہ 2023 میں ہندوستان تیسرے مقام پر تھا۔ اس طرح آلودگی کے معاملے میں معمولی سدھار آیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں پی ایم 2.5 پارٹیکلس کی کثافت میں 7 فیصد تک کی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ وہیں ٹاپ-10 شہروں کی بات کریں تو اکیلے 6 ہندوستان میں ہی ہیں۔ہندوستان کے جن 13 شہروں کو سب سے آلودہ مانا گیا ہے ان میں پنجاب سے لے کر میگھالیہ تک کے شہر ہیں۔ اس فہرست میں برنی ہاٹ پہلے نمبر پر ہے تو وہیں دہلی دوسرے مقام پر۔ اس کے علاوہ پنجاب کا ملّان پور تیسرے مقام پر ہے۔ چوتھے پر فرید آباد ہے۔ پھر غازی آباد کے لونی، نئی دہلی، گرو گرام، گنگا نگر، گریٹر نوئیڈا، بھیواڑی، مظفر نگر، ہنومان گڑھ اور نوئیڈا کا نمبر آتا ہے۔ کْل ملا کر ہندوستان کے 35 فیصد شہر ایسے ہیں جہاں پی ایم 2.5 کا لیول ڈبلیو ایچ او کی طرف سے تیار فہرست سے 10 گنا زیادہ ہے۔ عالمی صحت تنظیم کی لمٹ 5 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں فضائی آلودگی لگاتار تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور یہ ایک بڑا صحت خطرہ بھی ہے۔ اس سے ہندوستان کے لوگوں کی زندگی کی عمر میں اوسطاً 5.2 سال کی کمی آ رہی ہے۔ لینسیٹ ہیلتھ اسٹڈی کے مطابق 2009 سے 2019 تک ہونے والی 15 لاکھ اموات ایسی تھیں جن کی ایک وجہ ان کا پی ایم 2.5 آلودگی کے زیادہ رابطے میں رہنا تھا۔پی ایم 2.5 کا مطلب ہوا میں پھیلے ان آلودگی والے ذرات سے ہوتا ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے سانس کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کئی مرتبہ دل کے امراض ہوتے ہیں اور کینسر تک کی وجہ بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، صنعتی اخراج اور فصلوں اور لکڑیوں کو جلانا فضائی آلودگی کے اہم عوامل ہیں۔










