سرکاری سطح پر مارکیٹ چیکنگ کیلئے کو ئی لائحہ عمل مرتب نہیں،ماہ صیام اوراقتصادی بدحالی کے بیچ مہنگائی عوام کیلئے درد سر
سرینگر //وادی کشمیر کے شہرودیہات کے بازاروں میں سبزیوں اور میوہ جات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق ماہ صیام سے چند روز قبل سزیوں اور میوہ جات کی قیمتوں میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملتی تھی اور قیمتیں اعتدال پر تھیں لیکن ماہ صیام کے ایام متبرکات شروع ہوتے ہی سبزی فی کلو 20۔30روپے کا اضافہ کیا گیا اور سبزیوں بشمول فراش بین ،کدو،ٹماٹر ،آلو ،پیاز ، بینگن ،ساگ وغیرہ کی قیمتیں فی کلو40سے 100روپے تک رکھی گئی ہے جس پر لوگ نالاں وپریشان حال ہیں اور کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔اس سلسلے میں شہر ودیہات کے لوگوں نے کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے بازاروں میں دکانداروں یا سبزی ومیوہ فروش بے لگام ہیں اور ان کی من مانیاں عروج پر ہیں ۔کیونکہ ہر کوئی اپنی ریٹ لگا کر لوگوں کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نان گاریعنی جن کے پاس کاشت کاری کیلئے زمین دستیاب نہیں ہے یاکمانے والا کوئی نہیں ہے وہ لوگ بازاروں سے سبزی خریدنے کیلئے مجبور ہیں لیکن وہ جب بازار جاتے ہیں تو وہاں سرمایا خزان کی ریٹ پر ہی سبزیاں لاتے رہتے ہیں اور جن کے پاس مالی سکت نہیں ہوتی ہے تو وہ اپنے اہل وعیال کو اس مہنگائی کے باعث دو وقت کی روٹی فراہم نہیں کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں گذشتہ کئی برسوں سے مالی حالات کافی ابتر ہیں اور لوگوں کی ایک خاصی تعداد نان شبینہ کی محتاج ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیزن شروع ہونے پر بالخصوص سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاںکمی واقع ہوگی تھی لیکن ماہ صیام کے ایام متبرکات میں انصاف کے بجائے مہنگائی کی تلوار لٹکائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر طرح لوگوں کو لوٹا جارہا ہے اور ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے لیکن کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ قیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے ایک نرخ نامہ ( ریٹ لسٹ ) بغیر کسی تاخیر کے ترتیب دیا جائے اور تاجروں کو ان مرتب شدہ ریٹ لسٹس پر پابند بنانے کیلئے روزانہ مارکیٹ چیکنگ عمل میں لائی جائے تاکہ غریب عوام کا استحصال بند ہوسکے اور وہ بھی اپنی زندگی گذار سکیں گے ۔










