ممبئی : ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کو SEBI کی سابق چیئرپرسن مادھابی پوری بوچ اور پانچ دیگرعہدیداروں کے خلاف مبینہ اسٹاک مارکیٹ فراڈ اور ریگولیٹری خلاف ورزیوں کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔اے سی بی کی خصوصی عدالت کے جج ششی کانت ایکناتھ راؤ بنگر نے ہفتہ کو جاری کردہ حکم میں کہا کہ ریگولیٹری کی غلطیوں اور ملی بھگت کے ابتدائی ثبوت موجود ہیں، جس کی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے۔عدالت نے کہا کہ وہ تحقیقات کی نگرانی کرے گی اور 30 دنوں کے اندر اسٹیٹس رپورٹ (کیس کی) طلب کی ہے۔ عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ الزامات ایک قابل شناخت جرم کا انکشاف کرتے ہیں جس کی تحقیقات ضروری ہیں۔عدالت نے ورلی میں واقع اے سی بی یونٹ سے کہا ہے کہ وہ آئی پی سی، بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ، سیبی ایکٹ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کرے۔شکایت کنندہ نے سیبی کے افسران پر الزام لگایا کہ وہ اپنے معمول کے فرائض انجام نہیں دے رہی ہیں۔ اس سے مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور کارپوریٹ فراڈ کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ایک نااہل کمپنی کو اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ کیا گیا جس سے سرمایہ کاروں کو نقصان ہوا۔عدالتی حکم کے مطابق جن سینئر افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا ان میںمادھبی پوری بچ (سابق سیبی چیئرپرسن)‘ اشونی بھاٹیہ (سیبی کے کل وقتی رکن)‘اننت نارائن جی (سیبی کے کل وقتی رکن)‘کملیش چندر ورشنیہ (سیبی کے سینئر اہلکار)‘ پرمود اگروال (بمبئی اسٹاک ایکسچینج کے چیئرمین)‘ سندرارمن راما مورتی (بی ایس ای کے سی ای او) شامل ہیں۔ مادھبی پوری بچ پہلے بھی تنازعات میں رہیں ہیں۔ اگست 2024 میں، ہنڈن برگ ریسرچ نے الزام لگایا کہ مادھبی پوری بوچ اور ان کے شوہر کے پاس آف شور کمپنیوں میں حصص ہیں جن کے اڈانی گروپ سے روابط تھے۔ ستمبر 2024 میںسیبی کے 1,000 سے زیادہ ملازمین نے اس کے ممبئی ہیڈ کوارٹر کے باہر مدھابی پوری بوچ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مادھابی پوری بوچ نے 28 فروری 2022 کو سیبی چیئرمین کا عہدہ سنبھالا اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اور نجی شعبے کی پہلی پروفیشنل تھیں۔










