انتظامیہ سے ہنگامی بنیادوں پر ٹھو س اور موثر اقدام اٹھانے کا عوام نے کیا مطالبہ
سرینگر / /وادی کشمیر میں گذشتہ دو دنوں سے کئی پہاڑی علاقوں اور اتوار کو میدانی علاقوں میں ہلکی برف باری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اورسردیاں بھی برقرار ہیں ان مشکل ایام کے بیچ لوگوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔کیونکہ ان ایام میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے جس غفلت شعاری اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اس کا خمیازہ عام شہریوں کوہی بھگتنا پڑتا ہے۔ یہاں بجلی کی محرومی سے شہری اور دیہی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ سخت مشکلات سے دوچارہیںجبکہ پانی کی سپلائی کا بھی یہی حال ہے کہ واٹر سپلائی اسکیم ہوتے ہوئے بھی لوگ محکمہ جل شکتی کی لاپرواہی کی وجہ سے پانی کے بوند بوند کے لئے ترستے رہتے ہیں ۔اس ضمن میں مختلف علاقوں سے لوگوں نے کشمیر پر یس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے علاقے میں کئی دنوں یا کئی مہینوں سے پانی کی سپلائی نہیں ہورہی ہے جس سے ان علاقوں میں بدبو پھیلی ہوتی ہے اور ناصاف پانی کے استعمال سے لوگوں کو مختلف بیماریوں نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب بھی محکمہ جل شکتی کے متعلقہ افسران کوآگاہ کیا جاتا ہے تو وہ توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں ۔اسی طرح سے بجلی صارفین ہر روز اپنی بے بسی کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ان کے بقول سردیوں کے ایام شروع ہونے سے پہلے ہی مرتب شدہ شیڈول کو بالائے طاق رکھ کر کٹوتی کی جارہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی آنکھ مچولی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ برف باری اور بارشوں سے بجلی نظام بالخصوص دیہی وپہاڑی علاقوں میں بکھر گیا ہے جبکہ سردیوں اوران کٹھن ایام میں بجلی کی فراہمی لازمی بنی ہوئی ہے کیونکہ زندگی کے ہر شعبے کا انحصار بجلی پر ہی ہے ۔۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم ،تجارت ،دفتری کام کاج کے لئے کمپوٹر ،فون اور انٹرنیٹ ہی لازم ملزوم بن گئے ہیںلیکن اس کے لئے معقول بجلی سپلائی ضروری ہے ۔ان کے بقول بجلی زندگی کی ایک اہم ضرورت بنی ہوئی ہے جبکہ پانی پر ہر متنفس کی زندگی کا دارومدار ہے لیکن لوگوں کو اس نعمت سے محروم رکھا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب واٹر سپلائی اسکیم کے تحت ہر گھر میں پانی کے نل لگے ہوئے ہیں لیکن بیشتر علاقوں کے لوگوں کی شکایت رہتی ہے کہ وہ پانی کے ایک ایک بوند کے لئے ترستے رہتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ رسوئی گیس یا راشن انسانی ضرورت ہے ۔دستیاب ہونے کے باوجود بھی سردیوں کے ان ایام میں عام لوگ ان سے محروم رہتے ہیں جس کے نتیجے میں ان لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے لفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سردیوں کے ان مشکل ایام میں توجہ مبذول کرکے لوگوں کو بنیادی سہولیات بشمول بجلی ،پانی ،رسوئی گیس اور راشن کی فراہم کے لئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائیں تاکہ مجموعی طور لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔










