’’ریاستی درجے کی بحالی کی تحریک مزید تیز ہوگی، مرکز کو اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا‘

’’ریاستی درجے کی بحالی کی تحریک مزید تیز ہوگی، مرکز کو اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا‘

دفعہ 370 پر بامعنی بات چیت سے پہلے ریاستی درجہ ضروری// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے پارٹی اپنی تحریک کو مزید تیز کرے گی اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مرکزی حکومت اپنے بار بار کیے گئے وعدے کو پورا نہیں کرتی۔یو این ایس کے مطابق منگل کو سرینگر میں ایک سیاسی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جو دہلی میں نیشنل کانفرنس کے احتجاج کے ایک روز بعد منعقد ہوئی، عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ یہ سرکاری نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کی سیاسی پریس کانفرنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی دہلی اس لیے گئی تھی تاکہ مرکز کو پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے اس وعدے کی یاد دہانی کرائی جائے کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ این سی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جنتر منتر پہنچنے سے قبل آخری پولیس بیریکیڈ پر روک دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے وہیں دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ تحریک کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔ آئندہ پروگرام پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں طے کیے جائیں گے اور احتجاج دہلی کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی جاری رہے گا۔”عمر عبداللہ نے ان اپوزیشن جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کا مطالبہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کا مطالبہ ہے، اس لیے اسے سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں آج نیشنل کانفرنس سے آرٹیکل 370 پر سوال کرتی ہیں، وہ ماضی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ حکومت بنا چکی ہیں، جبکہ نیشنل کانفرنس نے اپنے مؤقف میں کبھی تبدیلی نہیں کی۔یو این ایس کے مطابق آرٹیکل 370 کی بحالی کے مطالبے کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی درجہ بحال کیے بغیر آرٹیکل 370 پر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ریاست ہی نہ ہو تو آرٹیکل 370 کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟” ان کے مطابق منتخب اسمبلی پہلے ہی خصوصی آئینی ضمانتوں سے متعلق قرارداد منظور کر چکی ہے، لیکن اس پر مؤثر پیش رفت ریاستی درجہ بحال ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دہلی احتجاج میں کانگریس، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) نے نیشنل کانفرنس کا ساتھ دیا، جبکہ این سی پی، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کئی رہنما راستوں کی بندش اور پابندیوں کے باعث مقامِ احتجاج تک نہیں پہنچ سکے۔مرکز کی جانب سے “مناسب وقت” پر ریاستی درجہ بحال کرنے کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر عدالتیں بھی یہ تسلیم کر رہی ہیں کہ سرینگر میں سکیورٹی صورتحال بہتر ہو چکی ہے تو پھر ریاستی درجہ بحال کرنے میں تاخیر کی کیا وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حالات اب بھی خراب ہیں تو امن و قانون کی ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ منتخب حکومت پر۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں حالیہ بارشوں کے بعد پانی جمع ہونے کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے سمارٹ سٹی پروجیکٹ کا تیسرے فریق سے آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سول سیکرٹریٹ بھی زیر آب آیا تھا اور برسوں کی غفلت کو ایک دن میں دور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دکانداروں اور متاثرہ شہریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر قواعد کے مطابق امداد فراہم کی جائے گی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ تقریباً دو برس گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کی جانب سے “جلد از جلد” ریاستی درجہ بحال کرنے کی ہدایت پر عمل نہیں ہوا، اسی لیے نیشنل کانفرنس کو عوامی تحریک شروع کرنا پڑی۔راجوری اور پونچھ میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی اموات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو دریاؤں، ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کرکے وہاں رہنے والے خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو وزراء کو متاثرہ اضلاع میں بھیجا گیا ہے تاکہ وہ امدادی سرگرمیوں، نقصانات کے تخمینے اور بازآبادکاری کے عمل کی نگرانی کریں۔