موجودہ شکل میں سندھ طاس معاہدہ دوبارہ نافذ نہیں ہوگا: حکومتی ذرائع

موجودہ شکل میں سندھ طاس معاہدہ دوبارہ نافذ نہیں ہوگا: حکومتی ذرائع

پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی مکمل طور پر بند ہونے تک معاہدے کی بحالی ممکن نہیں

سرینگر// بھارتی حکومت کے اعلیٰ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ موجودہ شکل میں سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی) دوبارہ نافذ نہیں ہوگا اور اس کی آئندہ بحالی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان مستقل طور پر بھارت کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کی حمایت بند کرے۔ ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں معاہدہ دوبارہ فعال کیا بھی جاتا ہے تو وہ موجودہ نہیں بلکہ ترمیم شدہ شکل میں ہوگا۔یو این ایس کے مطابق حکومتی ذرائع نے پیر کو بتایا کہ پاکستان یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کیے جانے کے باعث وہاں پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ملنے والے پانی کا بڑا حصہ ناکافی ذخیرہ گاہوں، پائپ لائنوں کے ضیاع اور صوبوں کے درمیان آبی تنازعات کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت فی الحال معاہدے سے مکمل طور پر دستبردار ہونے پر غور نہیں کر رہا، تاہم ایک خودمختار ملک ہونے کے ناطے وہ اپنے قومی مفادات کے خلاف کسی بھی معاہدے سے علیحدہ ہونے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس بارے میں فیصلہ پاکستان کے طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔بھارت نے گزشتہ برس پہلگام میں دہشت گردانہ حملے، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے، کے بعد پاکستان کے خلاف سفارتی اور اقتصادی اقدامات کے تحت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔ بھارتی حکام کے مطابق اس حملے میں پاکستان میں قائم لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ ملوث تھی، جس کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ذرائع نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں سے مغربی دریاؤں پر بھارت کے تقریباً ہر آبی منصوبے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان منصوبوں میں سلام، تلبل، بگلیہار، کشن گنگا، رتلے اور پاکل دل جیسے پن بجلی منصوبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے معاہدے کے تنازعات کے حل کے نظام کو تعاون کے بجائے بھارتی منصوبوں میں تاخیر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔یو این ایس کے مطابق حکومتی ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان نے 2015 میں کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری کا مطالبہ کیا تھا، لیکن بعد میں یکطرفہ طور پر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ثالثی عدالت سے رجوع کیا، جبکہ عالمی بینک نے 2016 میں بیک وقت غیر جانبدار ماہر اور ثالثی عدالت دونوں مقرر کیے، جسے بھارت نے معاہدے کے طریق? کار کے خلاف قرار دیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے اب تک ایسی کوئی قابلِ اعتماد پیش رفت سامنے نہیں آئی جس سے ظاہر ہو کہ اس نے سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد اور تنظیمیں آج بھی پاکستان میں کھلے عام سرگرم ہیں اور انہیں عوامی پلیٹ فارم میسر ہیں، جبکہ لائن آف کنٹرول کے پار دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق بھارتی ایجنسیوں کو مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک پاکستان دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اختیار نہیں کرتا، سندھ طاس معاہدے کی موجودہ شکل میں بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔