پی ایم اے وائی ۔ جی کے تحت لاکھوں اَفراد کیلئے رہائش کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا جائے گا۔ جاوید احمد ڈار

وزیر نے جموںوکشمیر میں پی ایم اے وائی ۔ جی کے جائزہ پر ایک روزہ ورکشاپ کی صدارت کی

جموں//وزیر برائے زرعی پیداوار اور دیہی ترقی و پنچایتی راج محکمے جاوید احمد ڈار نے آج کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا گرامین (پی ایم اے وائی۔جی) اُمید کی کرن بن گئی ہے جو ملک بھر میں لاکھوں لوگوں کے لئے سستے مکانات کے خوابوں کو پورا کر رہی ہے۔اِن باتوں کا اِظہار وزیر موصوف نے پنچایت بھون جموں میں پی ایم اے وائی۔جی کے جائزہ پر ایک روزہ ورکشاپ کا اِفتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب کے دوران کیا۔اِس موقعہ پر وزیر کے ہمراہ سیکرٹری آر ڈی ڈی اینڈ پی آر محمد اعجاز اسد اور محکمہ کے دیگر سربراہاں بھی تھے۔ورکشاپ کے دوران وزیر موصوف نے پی ایم اے وائی۔جی سے اِستفادہ کنندگان میں چیک تقسیم کئے اور سکیم کے اثرات اور عمل آوری کے بارے میں تفصیلی ایک کتابچہ جاری کیا۔اِس تقریب میں جوائنٹ ڈائریکٹر وزارتِ دیہی ترقی اجے مورے نے بھی حصہ لیا جنہوں نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے پی ایم اے وائی۔جی 2.0 کا جائزہ بھی پیش کیا۔جاوید احمد ڈار نے اَپنے خطاب میں جموں و کشمیر میں سستی رہائش کی فراہم کر کے معاشی طور پر کمزور طبقوں کی ترقی میں پی ایم اے وائی۔جی کے تبدیلی کردار پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے اِس سکیم کی اہمیت پر زور دیا جس کا نام بدل کر 2016 ء میں ملک بھر میں دیہی مکانات کی تعمیر کو تیز کرنے کے لئے اِس کی اصلاح کی گئی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ اِس اَقدام سے ہماری ریاست سمیت پورے ہندوستان میں لاکھوں لوگوں میں اُمید پیدا ہوئی ہے۔ اگرچہ جموں و کشمیر کے منفرد جغرافیائی اور سماجی تانے بانے کی وجہ سے چیلنجز بدستور موجود ہیں ، ہم اس پروگرام سے ہر اہل فرد کو فائدہ پہنچانے کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہیں۔وزیر موصوف نے سکیم کی مؤثر عمل آوری کے لئے سیاسی نمائندوں اور اِنتظامی افسران کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے اَفسران سے خطاب کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کی تمام سکیموں کے کامیاب عمل آوری کے لئے آسان رویہ اَپنانے اور قانون سازوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر زور دیا۔وزیر موصوف نے دُشوار گزارخطوں میں رہائش کے چیلنجوں پر بھی توجہ دی ، وسائل کی تقسیم میں اضافے اور محتاط منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے اِستفادہ کنندگان کے اِنتخاب میں شفافیت اور فنڈز کے مؤثر اِستعمال کی وکالت کی۔
جاوید احمد ڈارنے اَفسروں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمدردانہ رویہ اَپنائیں اور عوامی خدمات کی بغیر کسی رکاوٹ کے فراہمی کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے رورل سینی ٹیشن، ایس بی ایم۔ جی، این آر ایل ایم، آر جی ایس اے، آئی ڈبلیو ایم پی، حمایت اور آر ڈی ڈی کے دیگر مختلف وِنگوں کے تحت تمام سکیموں کی مؤثر کارکردگی اور کامیاب عمل آوری پر زور دیا۔بعد میں وزیر موصوف نے اے سی ڈیز اور اے سی پیز سے بھی گفت شنید کی اور اُنہیں بروقت کام مکمل کرنے کی ہدایت دی۔سیکرٹری آر ڈی اینڈ پی آر محمداعجاز اسد نے جموں و کشمیر کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہاؤسنگ چیلنجوںسے نمٹنے میں پی ایم اے وائی۔جی کے تبدیلی کے اثرات پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ سکیم نہ صرف کم آمدنی والے کنبوںکے لئے سستی ، محفوظ اوردیرپا رہائش کو یقینی بناتی ہے بلکہ دیہی کمیونٹیوں میںسماجی اور معاشی استحکام کو بھی فروغ دیتی ہے۔
محمداعجازاسد نے کہا، ’’مناسب رہائش تک رسائی وقار کو یقینی بناتی ہے اور دیہی آبادی کے لئے صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع کو بڑھاتی ہے۔ اِس طرح کی سکیمیں دیہی علاقوں کو زیادہ قابل رہائش بنا کر اور کمیونٹیوں کو بااِختیار بنا کر شہری نقل مکانی کو کم کرنے میں اہم ہیں۔‘‘سیکرٹری نے پی ایم اے وائی۔جی کے تحت پیش رفت کو اُجاگر کرتے ہوئے اِنکشاف کیا کہ جموں و کشمیر میں 3.35 لاکھ سے زیادہ مکانات کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 2.8 لاکھ مکانات پہلے ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ اُنہوں نے مالی برس 2023-24 ء میں 67,780 مکانات کی ریکارڈ توڑ تکمیل پر محکمہ کی سراہنا کی اور مزید کہا کہ 24 ؍دسمبر 2024 ء تک مزید 82,000مکانات مکمل کئے جا چکے ہیں۔ورکشاپ میں سیکرٹری آر ڈی اینڈ پی آررچنا شرما، ڈی جی رورل سینی ٹیشن انو ملہوترا، ڈائریکٹر آر ڈی ڈی جموں ممتاز علی، مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم شبھراشرما، ڈائریکٹر پنچایتی راج جموں و کشمیر شیام لال، ڈائریکٹر فنائنانس عمر خان، سی او او حمایت رجنیش شرما، سی اِی او آئی ڈبلیو ایم پی رجنیش گپتا، جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ کمل کمار اور اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ ، اسسٹنٹ کمشنر پنچایت (اے سی پی) اور جموں ڈویژن کے بی ڈی اوزنے شرکت کی۔