ہر روز 100سے زائد افراد آوارہ کتوں کے حملے کے شکار ہوکر زخمی ہوجاتے ہیں ۔سروے رپورٹ
سرینگر///بھارت میں آوارہ کتنوں کے کاٹنے سے روزانہ 5افرادکے قریب لقمہ اجل بن جات ہیں جبکہ ہر روز 100سے زائد افراد کتوں کے کاٹنے کے شکار ہوجاتے ہیں ۔وائس آف انڈیاکے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی لگانے کے بعد آوارہ کتوں کی تعداد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب انسانی سے زیادہ سڑکوں پر آوارہ کتے ہی نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ آوارہ کتوں کی جانب سے کاٹنے کے واقعات میں ہورہ اموات پر ایک غیر سرکاری ادارے کی جانب سے کی گئی سروسے رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر روز آوارہ کتے 100سے زیادہ افراد کو اپنا شکار بناکر ان کو کاٹ لیتے ہیں ۔ سروے میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ دور دراز دیہی علاقوں میں جہاں طبی سہولیات کی عدم دستیابی ہے وہاں پر جو افراد آوارہ کتوں کے کاٹنے کے شکار ہوتے ہیں وہ اینٹی ریبیز انجکشن نہیں لیتے جس کی وجہ سے وہ مختلف مہلک بیماریوں میں مبتلاء ہوجاتے ہیں جبکہ ان میں سے اکثر فوت ہوجاتے ہیں ۔ سروے میں بتایا گیا کہ ہے ہر روز آوارہ کتوں کے کاٹنے کے شکار بننے والے افراد میں سے پانچ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بروقت علاج نہیں ملتا ۔ اور آہستہ آہستہ وہ انفکشن سے متاثر ہوکر زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں ۔ آوارہ کتوں کے مارے جانے پر عائد پابندی کے نتیجے میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ’’اینٹی ریبیز‘‘انکفشن مخالف انجکشنوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور سرکاری ہسپتالوںمیں اکثر وبیشتر یہ انجکشن دستیاب نہیں ہوتے ۔ یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ میں جانوروں کے تحفظ اور جانوروں کے حقوق کی پاسبانی کرنے والی سماجی کارکن مینا گاندھی کی جانب سے ایک عرضی دائر کی تھی جس میں انہوںنے مطالبہ کیا تھا کہ آوارہ کتوں کے مارنے کو غیر قانونی قراردیا جائے کیوں کہ کتے بھی زندہ رہنے کاحق رکھتے ہیں چنانچہ عدالت نے ان کی دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی عائد کی ہے تب سے بھارت کی تمام ریاستوں میں آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ تاہم آوارہ کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے انسانی جانوں کے زیاں پر کوئی بات نہیں کرتا ۔










