خریداروں کا میلان سستے پلاسٹک کی طرف ،کاریگر پریشان
سرینگر// ماضی قریب میں انتہائی اہمیت کی حامل دستکاری جسے ’’کانہ ِکآم‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، وادی کشمیر میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے اور کاریگروں کا کہنا ہے کہ اس دستکاری میں زبردست کمی دیکھی جا رہی ہے۔دستکاری میں دو دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ رکھنے والے ایک کاریگرنے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فن، جو کبھی بڑے پیمانے پر قدر کی نگاہ سے دیکھا اور پسند کیا جاتا تھاتھا، میں زبردست زوال آیا ہے۔انہوں نے کہا’’آج لوگ بید کی خوبصورتی اور پائیداری کو بھول کر سستے پلاسٹک کے متبادل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے پیداواری لاگت اور سستے مواد کی آمد کی وجہ سے ہاتھ سے تیار کردہ ولو مصنوعات جیسے باسکٹ اور ٹرے کی مانگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔نوجوان نسل اس کام میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ وہ روایتی دستکاریوں سے ہٹ کر مواقع تلاش کرتے ہیں کیونکہ اب اس سے اچھی زندگی گزارنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک دستکاری نہیں ہے بلکہ ان کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ اگر ہم اسے کھو دیتے ہیں، تو ہم اپنی شناخت کا ایک ٹکڑا کھو دیتے ہیں۔واضح طور پر’کانہ کآم‘ کشمیر میں ولو ویکر کرافٹ کا مقامی نام ہے۔ کشمیر میں ’کانہ ِ کآم ‘کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔یہ روایتی آرٹ فارم، جو بنیادی طور پر خطے کے دیہی علاقوں میں رائج ہے، اس میں خطے کے قدرتی طور پربید کے درختوں کا استعمال کرتے ہوئے، ٹوکریوں سے لے کر فرنیچر تک مختلف اشیاء تیار کرنا شامل ہے۔ نسلوں سے گزرتے ہوئے، بیدکی بنائی کشمیر کے ثقافتی ورثے کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔










