power

بجلی بحران نے وادی میں اپنے تیور مزیدسخت کردیئے بیشتر علاقے گھپ اندھیرے میں

پی ڈی ڈی محکمہ کٹوتی کے بارے میں لوگوں کوجانکاری فراہم کرے /صارفین کا مطالبہ

سرینگر//مسلسل بجلی کٹوتی پرعوامی حلقوں نے حیرانگی کااظہار کرتے ہوئے پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے مطالبہ کیاکہ د ن میں اور سورج ڈھلنے کے بعد کتنے گھنٹوں کی کٹوتی کرنے ہے اس بارے میںعوام کوجانکاری فراہم کرے ،تاکہ لوگ متبادل انتظام کرسکے ۔بجلی منقطع ہونے او رآنے کاکوئی وقت نہیں ہے، جبکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کوکبھی بجلی کادیدارکرایا جاتاہے وی او آئی کے مطابق کشمیروادی میںپاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے رواں سیزن کے دوران گرمیوں کے ایام میں بھی بجلی منقطع کرنے کاسلسلہ شروع کیااور کارپوریشن نے کئی طرح کے تاویلات سامنے رکھیں، تاہم محکمہ کی جانب سے یہ نہیں بتایاگیاکہ کن وجوہات کی بناء پر بجلی منقطع کی جارہی ہے ۔گر میوں کے ایام میں چند گھنٹوں تک بجلی منقطع رہتی تھی تاہم اب وادی کے طول ارض میں آنکھ مچولی اور مسلسل بجلی منقطع رکھنے کاطریقہ کار اپنایاگیاہے جسپر عوامی حلقوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ پی ڈی ڈی سے مطالبہ کیاکہ بجلی ا آنے اور بجلی منقطع ہونے کے اوقات کار سامنے لائے جائے تاکہ لوگوں کومشکلوں کاسامناناکرنا پڑے ۔اب سورج ڈھلنے کے بعد بجلی آئی اور پندرہ منٹ کے بعد منقطع کردی گئی اور لوگوں کوموم بتیاں خریدنے کاموقع ناملیںا سے بڑھ کابدقسمتی اور کیاہوسکتی ہے۔ پی ڈی محکمہ یہ بھی سامنے نہیں لارہاہے بجلی کی پیداوارکتنی ہے اور ضرورت کتنی ہے ۔توازن کوبھر قرار رکھنے کے بارے میںبھی جانکاری فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔عوامی حلقوں نے پاورڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیاکہ بجلی آنے اور منقطع ہونے کے بارے میں لوگوں کوباخبررکھاجائے تاکہ وہ متبادل انتظام کرسکے ۔تاجروں ،چھوٹے صنعت کاروں اور پرائیویٹ اداروں میں کا م کرنے والے کا رکنوں نے بھی بجلی اچانک آ نے او رمنقطع ہونے پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ڈی محکمہ کو شڈو ل مشتہر کرنا چاہئے ۔تاکہ لوگ اس پرعمل کرے او رلوگوں کواس بات کی جانکاری رہے گی کہ ان اوقات کارمیںانہیں برقی رو نہیں ہوگی اور ان اوقات کارکے دوران بجلی سپلائی برقراررہے گی اور وہ اپنا کام کسی پریشانی کے بغیرانجام دے سکے ۔تاہم لوگوں کویہ کہناہے کہ جس طرح بجلی کے آنے اور جانے کی کوئی جانکاری نہیں ہے ا سے صارفین تاجروں، چھوٹے کارکانہ داروں پرائیویٹ دفتروں میں کام کرنے والوںکو کافی مشکلوں کاسامناکرناپڑتاہے او رڈھنکے کی چوٹ پریہ کہناچاہئے کہ کتنے گھنٹوں تک بجلی فراہم کی جائے گی اور اتنے گھنٹوں تک بجلی دستیاب نہیں ہوگی ۔