مقامی دانشگاہوں کی تشہیر ی پالیسی بھی اردو و انگریزی زبان میں ،ماہرین علم و ادب انگشت بدندان
سرینگر// / کشمیری زبان و ادب کے احیائے نو کیلئے کی جارہی کوششوں کی کڑی کے طور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ”کشمیری زبان کا فروغ “ عنوان سے ایک قومی سطح کی کانفرنس کا انعقاد طے کیا ہے جسے مقامی سطح پر ادبی و علمی حلقوں میں کافی سراہا جارہا ہے ۔تاہم دوسری طرف کانفرنسوں اور سیمناروں کے انعقاد کے ساتھ کشمیری زبان کے فروغ اور اسکے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کے فقدان پر مایوسی کا بھی اظہار کیا جارہا ہے ،۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر کے تین اہم دانشگاہوں بشمول کشمیر یونیورسٹی ،سنٹرل یونیورسٹی اور آئی یو ایس ٹی میں کشمیری زبان کے حوالے سے کئی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں لیکن جب عملی طور دیکھا جائے تو یہ صرف عوامی کھپت (Public consumption) کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے ۔اسلامک یونیورسٹیا ونتی پورہ میں منعقد کی جانے والی دو روزہ کانفرنس پر علمی و ادبی ماہرین نے مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ اقدام یہں کی دانشگاہوں کی جانب سے یہاں کی اصل تةزیب اور ثقافت کو فروغ دینے کیلئے اہم ہے لیکن ساتھ ہی زمینی سطح پر اپنی پالیسیوں کو عملانے کی بھی ضرورت ہے ۔بصورت دیگر ان کانفرنسوں کا کوئی مقصد نہیں نکل سکے گا ۔کشمیری زبان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زبان و ثقافت کے تحفظ کیلئے جن بنیادی باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ،وہ اسے عوام تک زیادہ سے زیادہ رسائی یقینی بنانا ہے ۔اور آج کے دور میں میڈیا ہی اسکی ایک لازمی اور ضروری شکل ہے ۔اگر کوئی دانشگاہ ہماری زبان و ثقافت کو فروغ دینے اور اسکے تحفظ کیلئے عملی اقدام کا خواہا ں ہے تو اسے لازما مقامی میڈیا کو ساتھ لے کر اپنے اقدامات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر یقینی بنانی ہوگی لیکن یہاں بدقسمتی سے معاملہ الٹا ہے ۔کشمیر یونیورسٹی سمیت دیگر دانشگاہوں سنٹرل یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں کشمیری زبان کے سلسلے میں کئی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں لیکن یہ سب صرف کیمپس کے احاطے میں ہی عملایا جاتا ہے جس کا کوئی فائدہ بربیرونی دنیا پر نہیں پڑتا ہے ۔واضح رہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں شیخ العالم چیئر کے نام سے بھی کشمیری زبان و ادب کی پاسداری کیلئے شعبہ قائم ہے لیکن زمینی سطح پر اس چیئر کے کیا نتائج سامنے آسکے ہیں کسی کو کوئی علم نہیں ۔سنٹرل یونیورسٹی گاندربل کشمیری زبان میں ایک رسالہ بھی شائع کرتا ہے لیکن اسکی رسائی بھی ناپید ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دانشگاہیں واقتعا کشمیری زبان کو فروغ دینے کیلئے اپنی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاکر اسے زمینی سطح پر عام کرنے کی سعی کرتے تو نتائج مختلف ہوتے ۔یہ عجب بات ہے کہ کشمیری زبان سے منسوب منعقد کئے جانے والے سیمناروں کانفرنسوں اور دیگر سرگرمیوں کی تشہیر کیلئے انگریزی اور اردو زبان کو ہی وسیلہ بنایا جاتا ہے حالانکہ اس کیلئے یہاں کشمیری زبان میں شائع ہونے والا ایک معروف اور معتبر روزنامہ بھی میسر ہے جس کے ذریعے کشمیری زبان کے فروغ وتحفظ کیلئے کی جارہی سرگرمیو ں کو مزید تقویت ملتی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر یونیورسٹی ،اسلامک یونیورسٹی اور سنٹرل یونیورسٹی کے علاوہ دیگر علمیی و ادابی اداروں کے پاس ایک موثر اشتہارات کی پالیسی ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر کشمیری زبان سے وابستہ میڈیا کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔










