مقابلہ سنسنی خیز ہونے کا امکاں،پی ڈی پی اور انجینر رشید کا امیدوار بھی میدان میں
سرینگر///گلمرگ نشست پر ایک سابق معروف بیروکریٹ نے اس بار انتخابی عمل کو سنسنی خیز بنایا ہے۔نیشنل کانفرنس کی طرف سے فاروق احمد شاہ کی نامزدگی کی قیاس آرئیاں اگرچہ قبل از وقت ہی گشت کر رہیں تھی تاہم نیشنل کانفرنس نے الیکشن کا کا بغل بجتے ہی فاروق احمد شاہ کے گلمرگ نشست پر امیدوار کی نامزدگی پر مہر ثبت کردی۔ ماضی میں یہ نشست نیشنل کانفرنس کا گھر مانا جاتا تھا تاہم وقت کے ساتھ نیشنل کانفرنس نے اس نشست پر گرفت کھو دی اور انکے امیدواروں کی ووٹنگ شرح بھی تنزلی کا شکار ہوگئی۔انتخابی مبصرین کا تاہم کہنا ہے کہ فاروق احمد شاہ کی موجودگی کی وجہ سے نیشنل کانفرنس اپنی کھوئی ساخت بحال کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ اس نشست سے فاروق احمد شاہ کو نیشنل کانفرنس نے بھنور میں ہچکولی کھاتی ہوئی کشتی کو باہر نکلانے کیلئے پتوار تھما دی ہے،اور وہ اس میں کامیاب ہونگے یا نہیں وہ آنے والا وقت ہی بتا پائے گا۔1996کے بعد نیشنل کانفرنس کے امیدوار23فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہیں ہے جبکہ2014 کے الیکشن میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار نے13.6فیصد ووٹ حاصل کئے اور چوتھے پائیدان پر رہیں۔وی او آئی کے مطابق فاروق احمد شاہ کو فروری2019میں سرکاری نوکری سے اس وقت والنٹری سبکدوش کی منظوری ملی تھی جب وہ محکمہ آب و آبپاشی کے سیکریٹری تھے،جبکہ اس سے قبل انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر اور ڈائریکٹر سیاحت کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دی۔ اس نشست پر شاہ کے مقابلے میں ایک سنیئر سیاست داں اور کئی بار اس نشست سے جیت درج کرنے کے علاوہ وزارت کا قلمدان سنبھالنے والے غلام حسن میر سے ہیں۔ غلام حسن میر اپنی پارٹی کے نائب صدر ہے اور اسی جماعت سے حلقہ گلمرگ کیلئے امیدوار بھی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق غلام حسن میر کو طویل سیاسی اور انتخابی تجربہ حاصل ہے اور انہیں کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔غلام حسن میر نے1983کے علاوہ2002اور2008میں اسی نشست پر کامیابی درج کی ہے جبکہ،1987،2014اور1996میں وہ دوسرے پائیدان پر رہیں۔غلام حسن میر مفتی محمد سعید کی کانگریس،پی ڈی پی سرکار کے علاوہ عمر عبداللہ کی کانگریس نیشنل کانفرنس سرکار میں وزیر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاہم گزشتہ2انتخابات میں ان کے بھتیجے شبیر احمد میر کی سیاسی میدان میں موجودگی سے انکے ووٹوں کی تقسیم ہوتی ہے،جس کی وجہ سے انہیں سابق ہار کو جیت میں تبدیل کرکے کیلئے کافی عرق ریزی کرنی پڑے گی۔ پی ڈی پی طرف سے شبیر احمد میر کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ شبیر احمد میر نے گزشتہ الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا جس میں انہوں نے11ہزار کے قریب ووٹ حاصل کئے تھے اور تیسرے پائیداں پر رہے تھے،جس کے چلتے اپنی سابق جیت کا دفاع کرنے کیلئے شبیر احمد میر کو میدان میں اتارا گیا۔2014کے الیکشن میں پی ڈی پی امیدوار محمد عباس نے اس حلقہ سے جیت درج کی تھی،تاہم دسمبر2018میں پی ڈی پی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ عوامی اتحاد پارٹی کی طرف سے اس نشست پر عادل نذیر کو منڈیٹ دیا گیا ہے۔ عادل نذیر بھی مضبوط دوے داروں کی فہرست میں ہیں کیونکہ حالیہ پارلیمانی الیکشن میں انجینئر رشید نے اس حلقہ سے سبقت حاصل کی تھی۔مجموعی طور پر اس نشست پر13امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جن مین نصف درج امیدوار آزاد امیدواروں کی حیثیت سے الیکشن دنگل میں کود گئے ہیں۔بھیم سینا کی طرف سے عابد حسین ملک،ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کی طرف سے عبدالاحد آخون،راشٹریہ لوک دل سے محمد اقبال شاہ، سماج وادی پارٹی کی طرف سے ہلال احمد ملہ،آزاد امیدوار تجندر سنگھ، سید عامر سہیل،شبیر احمد نجار، عمر فاروق پرے، اور امود گلزار شامل ہیں۔1972میں اس نشست پر کانگریس کے سریندر سنگھ نے اآزاد امیدوار مرزا غلام احمد بیگ کو قریب5500ووٹوں کی فرق سے شکست دی تاہم1977میں نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون نے نشست پر کامیابی درج کرتے ہوئے جنتا پارٹی کے مرزا غلام احمد بیگ کو13پزار350کے قریب ووٹوں سے شکست دی۔1983میں اس نشست پر غلام حسن میر نے نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر کانگریس کے مرزا غلام حسن بیگ کو10ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی جبکہ1987میں نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر مصطفی کمال نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے والے غلام حسن میر کو8ہزار700ووٹوں سے شکست دی۔1996میں شیخ مصطفی کمال نے دوسری مرتبہ اس نشست پر اپنی جیت درج کرتے ہوئے کانگریس امیدوار غلام حسن میر کو1750ووٹوں سے شکست دی۔2002میں تاہم غلام حسن میر کامیابی درج کرنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر مصطفی کمال کو قریب20ہزار ووٹوں سے شکست دی۔2008میں غلام حسن میر نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر مصطفی کمال کو6400ووٹوں کے فرق سے ہرادیا جبکہ2014میں پی ڈی پی امیدوار محمد عباس وانی نے ڈی پی این امیدوار غلام حسن میر کو قریب2800ووٹوں سے شکست دی۔










