پہاڑی ریز رویشن کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ اوڑی میں عمر عبداللہ کا خطاب
سرینگر//ستمبر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا کہ وادی کشمیر میں چند آزادامیدواروں کو بی جے پی کی در پر دہ حمایت حاصل ہے۔ اور بی جے پی جموں کشمیر میں لوگوں کے منڈیٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عمر عبد اللہ آج اوڑی منی سٹیڈیم میں ایک چناوی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہ ہماری حکومت کے دوران پہاڑی اور گوجر برادریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات حاصل ہوئیں۔وی او آئی کے مطابق عمرعبداللہ نے کہا سابق وزیر محمد شفیع اوڑی محکمہ تعلیم کے وزیر کی حیثیت سے انہوں نے پہاڑی، گجر ریز رویشن اور ان کمیونٹیز کے لیے دیگر سہولیات بھی فراہم کیں۔ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ پہاڑی ریز رویشن کوئی چھین نہیں سکتا اور ناہی ختم کر سکتا۔ کا نفرنس اس ریز رویشن کی حفاظت کرے گی۔ انہوں نے کہا کر نیشنل کانفرنس سرکار نے ہی سب سے پہلے پہاڑی ریز سفارش کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے حمایت یافتہ لوگ صرف پہاڑی، گجر کشمیری ، شیعہ سنی ذاتوں پر لوگوں کو تقسیم رو پیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے برادریوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے پر بی جے پی پر تنقید کی عمر نے کہا کہ بی جے پی کشمیر میں چند سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا نہ کر کے آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے جن میں سابق وزیر چودھری تاج محھی الدین بھی شامل ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان عدم تحفظ کے شکار ہیں اور وہ خوف محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کشمیریوں کو اس با روزیر اعظم کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ 15 اگست 2019 کا فیصلہ ہمیں منظور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سرکار آزاد امیدواروں کی حمایت کر کے این سی کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے یہ تمام اے بی سی ٹیمیں صرف این سی کے خلاف بولتی ہیں یہی وجہ ہے کہ پیپلز کا نفرنس، اپنی پارٹی اور بی جے پی حمایت یافتہ آزاد امیدوار بی جے پی کے خلاف بات نہیں کرتے۔ اس سے آپ کو آزاد امیدواروں کے ایجنڈے کا پتہ چل گیا ہو گا۔ عمر نے مزید کہا کہ جن لوگوں کا بی جے پی کے ساتھ معاہدہ ہے وہ عوام کے مطالبات کو پورا نہیں کریں گے۔ عمر نے مزید کہا ، سابق وزیر چوہدری تاج محی الدین بی جے پی کے پراکسی ہیں اسلئے بی جے پی اور اپنی پارٹی ان کی حمایت کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس با روٹ ڈال کر وز یر اعظم نریندر مودی کو قرا را جواب دینا ہوگا۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ آپ کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر حل کریں اور ہمارے تمام حقوق ہمیں واپس دیں ورنہ جموں و کشمیر کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ کشمیریوں کی خاموشی کو آسانی سے مت لو اور بعض اوقات خاموشی غصے کا اظہار بھی کرتی ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور وزیر اعظم مودی کو ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کی قدر کرنی ہوگی۔ سابق کا بینہ زیرمحمد شفیع اوری نے کہا کہ بی جے پی کا اوڑی میں کچھ علاقائی پارٹیوں اور آزادامیدواروں کے ساتھ معاہدہ ہے۔ تمام بی جے پی اتحادی جماعتیں اور ہم خیال لوگوں کا ہاتھ آزاد امیدواروں کے ساتھ ہے۔ شفیع اوڑی نے کشمیریوں میں بے اختیاری، معاشی بد حالی اور بیگانگی کے ماحول کو بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا غیر آئینی تھا اور موجودہ حکومت سیکورٹی خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو خراب کیا۔ انہوں نے آبادیاتی تبدیلیوں اور مقامی معاشی مواقع کے ضائع ہونے کی پریشان کن تصویر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر عمر عبداللہ نے اعلان کیا کہ 18 اکتوبر کے بعد نیشنل کانفرنس جموں کشمیر میں اپنی سرکار تشکیل دیگی اور اوڑی سے نیشنل کانفرنس کے امیدوارڈاکٹر سجاد شفیع وزارتی کونسل کا حصہ ہوں گے۔ اس موقع پر سینئر لیڈ رائیڈوکیٹ محمد حنیف خان،راجہ جاوید محمد اسماعیل خان محمد الطاف میر ندیم عباسی بشیر با تک، سید مشتاق ، ڈاکٹر شیخ فاروق علی اکبر خان، اور دیگر لیڈران موجود تھے۔










