omar abdullah

موجودہ اسمبلی انتخابات میں کشمیرکے منڈیٹ کو تہس نہس کرنے کیلئے سازشیں رچی گئی / عمر عبد اللہ

قلم دوات والوں نے جموں و کشمیر کو ایک عوام کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاجپا کیساتھ حکومت بنا کر دھوکہ دیا

سرینگر // پارلیمانی انتخابات میں جذبات کے نام پر ووٹ مانگے گئے اور لوگوں نے ایک قیدی کو جیل سے رہا کرنے کیلئے بھر پور انداز میں ووٹ ڈالے اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تو حقیقت بھی عوام کے سامنے آتی گئی کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ سارا کھیل بھاجپا کا رچاہوا ثابت ہورہا ہے۔ موجودہ اسمبلی انتخابات میں کشمیرکے منڈیٹ کو تہس نہس کرنے کیلئے بھی بھاجپا نے سازشیں رچانے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی ہے، یہاں قیدیوں کو الیکشن لڑنے کیلئے رہا کیا گیا اور یہاں اپنے دیرینہ آلہ کاروں کو اس کیساتھ ملاکر میدان میں اُتارا ہے، ایسی صورتحال میں عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں اور 2014کی غلطی کسی بھی صورت میں نہ دہرائے۔سی این آئی کے مطابق رفیع آباد، پٹن اور سوپور میں بھاری چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ جس شخص کو بارہمولہ پارلیمانی حلقہ انتخاب سے جیت دلانے کیلئے لوگوں نے ووٹ ڈالے، کچھ دن قبل اُس نے خود اس بات کا انکشاف کیا کہ اُس کو مودی نے ایک سال قبل یعنی جولائی2018میں ہی اپنے گھر میں بلا کر کہا تھا کہ ہم (بی جے پی والے) دفعہ370کو ختم کرنے والے ہیں۔ میں انجینئر رشید سے سوال کرتا ہوں کہ آپ ایک سال تک خاموش کیوں رہے؟ آپ نے بھاجپا کے اس منصوبہ کے بارے میں کسی کو آگاہ کیوں نہیں، اگر آپ ایسا کرتے تو ہم قبل از وقت کی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور حکومت کے اس منصوبہ پر حکم امتناع لاتے سکتے تھے۔ لیکن آپ خاموش رہے اور بھاجپا کو اپنا منصوبہ پائے تکمیل پہنچانے کیلئے راہ ہموار رکھی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ امیت شاہ نے جموں میں دو بار اپنی تقریر میں کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے بغیر ہم کسی کیساتھ بھی حکومت بنانے کیلئے تیار ہیں، موصوف نے پی سی، اپنی پارٹی اور آزاد اُمیدواروں کا نام نہیں لیا اور نہ ہی انجینئر رشید کی پارٹی کا نام لیا، مطلب صاف یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر بھاجپا انجینئر صاحب سے حمایت لے سکتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ انجینئر رشید صاحب کہتے ہیں کہ وہ حریت کا ایجنڈا چلائیں گے اور شبیر شاہ اور دیگر قیدیوں کی رہائی کی کوشش کریں گے اور یاسین ملک کی پھانسی روکنے کیلئے کردار ادا کریں گے لیکن دوسری جانب جیل سے باہر نکلتے ہی اُس شخص کے ساتھ بغلگیر ہوتے ہیں ، جس حریت دفتر کا بورڈ اُتار پھینکتا ہے اور لالچوک کے بیچ میں یاسین ملک کو پھانسی دینے کی مانگ کرتا ہے۔ انجینئر رشید صاحب یہ دوغلی پالیسی کیسی؟ ۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ جس آر آئی آر کے تحت انجینئر رشید بند تھے اُسی ایف آئی آر میں یاسین ملک، شبیر شاہ، آسیہ اندارابی اور مسرت عالم بھی ہیں ، پھر صرف انجینئر رشید کو ہی کیسے چھوڑا گیا؟ جب کیس ایک ہی ہے تو باقی ابھی بھی کیوں بند ہیں؟کہیں نہ کہیں تو تار جُڑے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ بھاجپا کیخلاف نیشنل کانفرنس لڑ رہی ہے، اسی لئے ہم نے کانگریس کیساتھ اتحاد کیا، ہم بھاجپا کو جموںوکشمیر سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قلم دوات والوں نے جموں و کشمیر کو ایک عوام کو ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاجپا کیساتھ حکومت بنا کر دھوکہ دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ نیشنل کانفرنس کو کامیاب بناکر ہمیں راحت پہنچانے کا موقع فراہم کر رہی ہے ۔