dooran

لوگ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے نتیجے میں گونا گوں مشکلات سے دوچار

انتظامیہ کیلئے ایک چیلنج ،حکمت عملی کے تحت عوام کو اس سے نجات دلانے کیلئے اقدام اٹھائے جائیں

سرینگر //وادی کشمیر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ہر سال حکومتی سطح پر وعدے کئے جاتے ہیں لیکن زمینی سطح پر ان کو عملایا نہیں جاتا ہے ۔لوگ بجلی کی کٹوتی ،پانی کی قلت ،سڑکوں کی خستہ حالی ،ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہر موسم اور ہرحال میں پریشان رہتے ہیں اور ان مشکلات سے چھٹکار ا پانے کے لئے متعلقہ افسران کو مطلع کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی طرف سے توجہ دینے کی زحمت گوارا نہ کرنے پر ’’تنگ آمد بہ جنگ آمد ‘‘کے مصداق سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے ہیں جس سے ایک اور مسئلہ کھڑا ہوتا ہے ۔احتجاج کے دوران متعلقہ افسران کے بجائے پولیس ٹیم لوگوں کو روکنے کے لئے جائے وقوع پر پہنچ جاتے ہیں اور المیہ ہے کہ پولیس ہی لوگوں کی یقین دہانی کرکے ان کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔کشمیر پریس سروس کو عوامی احتجاج کے حوالے سے آئے روز خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں اور عوام کے مطالبات کو حکام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن متعلقہ افسران اس کی طر ف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ان عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں ۔جب تک نہ سرکار اپنے وعدوں کا ایفا کرے گی تب تک عوامی سطح پر حالات بہتر نہیں ہوسکتے ہیں ۔اس سرکار کے لئے لازمی ہے کہ عوام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے فوری ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائیں تاکہ عوام سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور نہیں ہوجائے گا۔