tarun chug

نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ جموں و کشمیر میں امن اور ترقی سے مایوس

دفعہ 370 کو ہٹانا ہم اہم موڑ پر جہاں سرمایہ کاری، روزگار کی تخلیق اور استحکام کو فروغ ملا / ترون چھگ

سرینگر // نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ جموں و کشمیر میں امن اور ترقی سے مایوس ہے کی بات کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری اور جموں کشمیر انچارج ترون چھگ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے ان بدعنوانی کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ اپنے دور حکومت میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔سی این آئی کے مطابق جموں میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری اور جموں کشمیر انچارج ترون چھگ نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد معمول پر آنے کے بی جے پی کے دعوؤں پر فاروق عبداللہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فاروق عبداللہ وادی میں پائے جانے والے امن اور ترقی کے سامنے مایوس ہیں۔چھگ نے کہا کہ یہ خطہ،جو کبھی عبداللہوں اور مفتیوں کی حکمرانی میں غیر مستحکم تھا، اب دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے دہشت گردی کے دارالحکومت سے سیاحتی دارالحکومت میں تبدیل ہو گیا ہے۔چھگ نے یہ بھی کہا کہ این سی نے دیگر خاندانی پارٹیوں جیسے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے لوگوں کو برسوں تک گمراہ کیا اور اپنے فائدے کے لیے دفعہ 370 کا استحصال کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت تھی جس نے جموں و کشمیر میں اس گرہن کو ختم کیا۔انہوں نے این سی پر تنقید کرتے ہوئے پارٹی پر بدعنوانی کا الزام لگایا اور اپنے دور حکومت میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔چھگ نے مزید کہا کہ دفعہ 370 کو ہٹانا جموں اور کشمیر کیلئے ایک اہم موڑ ہے، جس سے سرمایہ کاری، روزگار کی تخلیق اور استحکام کو فروغ ملا ہے۔