ہم نے اپنے منشو رمیں عوام کی راحت کے وعدے کئے وہ ہم پورا کریں گے / عمر عبداللہ
سرینگر // سال 2015میں یہاں حکومت کی تبادلی کیساتھ ہی لوگوں پر مصائب اور مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ گئے اور گذشتہ10سال سے یہاں کے عوام کو مصائب و مشکلات کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیںملا کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبد اللہ نے کہا کہ یہاں کے عوام نے گذشتہ دس سال نہ صرف سختیوں میں گذارے بلکہ اس عرصے کے دوران جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت پارہ پارہ کرنے کے علاوہ ریاست کے دو ٹکڑے کئے گئے، یوٹی میں تبدیل کیا گیا اور مسلسل طو رپر نت نئے قوانین لاگو کئے گئے۔سی این آئی کے مطابق انتخابی مہم جاری رکھتے ہوئے حلقہ انتخاب پانپور میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ آج حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ یہاں کے عوام کو زمینوں سے محروم کیاجارہاہے، جو زمینیں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے بغیر کسی معاوضے کے عوام کو سونپ دیں تھیں، آج یہاں کی نوکریاں باہری اُمیدواروں کو دی جارہی ہیں، یہ کے ٹھیکے باہری ٹھیکیداروں کو مل رہے ہیں، شاہراہ ٹول وصولنے والے بھی باہر کے، دریائوں سے ریت نکالنے کا کام ہو یا پہاڑوں سے پتھروں کی کان کنی نیز سب کچھ باہری لوگوں کو دیا جارہاہے۔ جموں و کشمیر کے وسائل پر مقامی آبادی کے حقوق کو محروم کردیاگیاہے۔ نیشنل کانفرنس نے عہد کیا ہے کہ حکومت میں آنے کی صورت میں تمام جنگلات، پہاڑوں، دریائوں اور دیگر وسائل پر سب سے پہلا حق جموں و کشمیر کے عوام کو دیا جائے گا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموںوکشمیر کی یہ ابتری اس لئے کیونکہ یہاں ووٹوں کی تقسیم ہوئی اور پی ڈی پی نے بھاجپا کو یہاں لاکر حکومت میں شریک بنا ڈالا، پھر بی جے پی نے اپنے پیر جمائے اور پی ڈی پی کو لات مار کر یہاں سب کچھ تہس نہس کردیا اور یہاں کے عوام کو گذشتہ ایک دہائی خصوصاً2019کے بعد زیر عتاب رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنے منشو رمیں عوام کی راحت کے وعدے کئے ہیں، ہم نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ ہماری حکومت آتے ہی پی ایس اے کے قانون کو ختم کریں، تاکہ دوبارہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ہم نے ایک لاکھ نوکریاں دینے کی بات کی ہے، مفت تعلیم جو ہمیں شیر کشمیر نے وراثت میں دی تھی، ایک ایک کرکے اس کا سلسلے کو بند کردیا، نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے یونیورسٹی سطح تک مفت تعلیم کو دوبارہ رائج کیا جائے گا۔ آج ہر ایک گر بجلی فیس کے اضافے سے دبائو محسوس کررہاہے، ہم نے اس کا علاج بھی اپنے منشور میں رکھا ہے اور ہر گھر کو 200یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کا وعدہ کیاہے۔ ہم نے معیشی طور پسماندہ گھرانوں کو سالانہ 12سلینڈر گیس دینے کا وعدہ کیا ہے، ہم نے گوجر، بکروال اور پہاڑیوں کے جنگلات کے حقوق کی بحالی کا وعدہ کیا ہم نے کشمیر کی سیب صنعت کو بچانے کا تہیہ کر رکھا ہے ،نیز ہم جموںوکشمیر کے عوام کو ہر سطح پر راحت پہنچانے کیلئے پُرعزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اسی ایجنڈا کی وجہ سے بہت سے لوگ پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں آزاد اُمیدواروں اور نئی پارٹیوں کی بھرمار ہے۔ لوگوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ کہیں اُن کا ووٹ بی جے پی کی مدد کیلئے نہ جائے۔










